میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 14 جنوری، 2020

مونگ کی دال

 (اعلانِ بریّت، ]جسے انگریزی میں ڈس کلیمر کہتے ہیں۔

[: یہ مضمون اندوہناک حد تک مصنّف کی ذاتی سوچ اور خیالات کے مطابق لکھا گیا ہے، جس میں سمجھ کا دخل بہت کم ہے، اور مصنّف چونکہ اختلاف رائے برداشت کرنے کا قائل نہیں ہے، اس لیے وہ لوگ جو کسی بھی طرح کا اختلاف کرنے کے شوقین ہیں، بہتر ہے اسے نہ پڑھیں۔ خاص طور پر کمزور معدے اور قوی حافظے والے قارئین کو گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
 مزید بر آں اس مضمون کے مندرجات کو نہ تو کسی قانونی یا غیر قانونی عدالت میں بطور حوالہ پیش کیا جا سکتا ہے نہ ہی ان کی بنیاد پر مصنف کے خلاف کوئی دعویٰ دائر کیا جا سکتا ہے۔) ---------------------- 
ویسے تو دال کا کھانا ہی دال کھانے والے کی مسکینی اور بیچارگی پر دال ہوتا ہے لیکن یہ دال اگر مونگ کی دال ہو تو یہ اس نادار بخت کی ناسازیِ طبع اور نقاہت پر بھی دال ہوتا ہے اور واضح طور پر اس بات کا غمّاز بھی ہوتا ہے کہ کسی بے رحم معالج نے موصوف کو بجائے صاف صاف فاقہ کر کے مر جانے کا مشورہ دینے کے اس کے لیے خودکشی بالغذا کا پیچیدہ نسخہ تجویز کیا ہے۔ ظاہر ہے ایک تو یہ زود ہضم ہوتی ہے۔ دوسرے کسی بھی قسم کی مضرِ علالت غذائیت سے پاک ہوتی ہے۔ ابتدا میں تو ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ دال اتنی زود ہضم بلکہ سریع الہضم ہوتی ہے جیسے بڑھیا کے بال (جسے انگریز کاٹن کینڈی کہتے ہیں) اور سچ تو یہ ہے کہ انتہا میں بھی یہی سمجھتے ہیں۔ تو بیچارہ اس دال کا کھانے والا جب تک آخری لقمہ لیتا ہے، پہلا لقمہ کبھی کا ہضم بھی ہو چکا ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ پیٹ بھرتا ہے نہ نیّت۔ 
 اب اس پراسرار خوراک کے نام پر ہی غور کیجیے۔ اس کا عمومی نام دال بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ جیسے حروف تہجی میں دال ایک مسکین سا حرف ہے جو نہ تو کاف، گاف اور فے کی طرح لمبا چوڑا ہے، نہ جیمِ جلیبی، حائے حلوہ، چائے چنڈال، خائے خالہ اور قافِ قدرت کی طرح بھاری بھرکم، نہ الف کی طرح اکھڑ، نہ لام اور میم کی طرح مغرور اور نہ بے، پے، تے کی طرح پھیلا؛ بس ایک چھوٹا سا مڑا تڑا حرف ہے جس کو کوئی نقطہ تک نصیب نہیں، (یہی وجہ ہے کہ کھانے والے پکانے والوں کو بے نقط سناتے ہیں) ۔ ویسے بھی یہ خوراک وہ ہے شاید ہی کبھی کسی شادی کی ضیافت یا چالیسویں کی عالیشان دعوت میں پیش کی گئی ہو۔ بس ایک مجہول سی چیز ہے جو ایک بار پک جائے تو خدا ہی اسے ختم کرائے۔ ہفتوں چلتی ہے۔ بلکہ مجھے تو یقین ہے کہ مونگ کی دال کھانے کی میز پر کیٹیلسٹ کے طور پر ہی رکھی جاتی ہے۔ ( علم کیمیا میں کیٹیلسٹ وہ کیمیائی مادہ ہوتا ہے جو کیمیائی عمل میں خود حصّہ نہیں لیتا مگر دوسرے حصّہ لینے والوں کو بھڑکاتا ، اکساتا اور شہہ دیتا ہے۔) بلا شبہ یہ دال جتنی مقدار میں دسترخوان پر آتی ہے، اتنی ہی مقدار میں واپس جاتی ہے۔
 آپ نے شاید اس نیک بخت حسینہ کا قصّہ سنا ہو جس کو شادی کے بعد دوسرے ہی دن اپنے ڈپلومیٹ ٹائپ شوہر کے لیے کھانا پکانا پڑ گیا تھا کیونکہ موصوف بالکل ہی اکیلے تھے۔ اس اللہ کی بندی نے کبھی کھانا پکایا ہوتا تو پکاتی۔ بہرحال بہت غور بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ مونگ کی دال پکانا ہی مناسب رہے گا کیونکہ اس میں نہ ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری، اور رنگ چوکھا ہی آتا ہے۔ سو اس معصوم نے مونگ کی دال پکائی۔ جیسی بھی پکّی ہو شوہر نے نئی نویلی دلہن کے پکائے کھانے کی کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر تعریف کی، ساتھ ہی یہ سچ بھی بولا کہ تم کو کیسے پتا چلا کہ یہ دال مجھے تمام واہیات کھانوں میں سب سے زیادہ پسند ہے۔ بس جناب اب تو بیگم صاحب نے شوہر کے لیے روز وہی مونگ کی دال پکانی شروع کر دی۔ آخرایک دن شوہر نے دال کا برتن اٹھا کر پٹخ دیا۔ بیوی پریشان ہو کر بولی آپ کو کچھ ہو گیا ہے۔ چلیے میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس۔ میں نے پہلے دن یہ دال پکائی تو آپ نے بہت تعریف کی۔ دوسرے دن پھر آپ نے ویسی ہی تعریف کی۔ تیسرے دن بھی شوق سے کھائی۔ چوتھے دن آپ نے کہا کہ بیوی تمہارے ہاتھ سے تو میں زہر بھی کھانے کو تیّار ہوں۔ پھر چار دن اور آپ نے چپ چاپ یہ دال کھائی۔ آج نویں دن آپ کو کیا ہو گیا؟ یہ بھی نہ سوچا کہ ابھی ہماری شادی کو دن ہی کتنے ہوئے ہیں۔ آپ پر یا تو کوئی اثر ہو گیا ہے یا کوئی چڑیل آپ کے پیچھے پڑ گئی ہے۔ ایسا کیجیے ، ہمارے پیر صاحب کے پاس چلیے۔
 مونگ کی دال کی ایک اہمیّت یہ بھی ہےکہ اس کی کھچڑی پکائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ سب سے پہلے کھچڑی چڑیا اور چڑے نے پکائی تھی۔ آپ نے بھی سنا ہوگا کہ چڑیا لائی دال کا دانہ اور چڑا ۔۔۔۔۔ چڑا تو لایا کچھ بھی نہیں، کیونکہ وہ بہت تھکا ہوا تھا۔ دوسرے چڑوں کے ساتھ جوا کھیل کھیل کر تھک گیا تھا اور ہار کے غم میں اس نے قرض کی مے بھی چڑھا لی تھی، اس لیے اس سے اڑا بھی نہیں جا رہا تھا۔ پس چاول کا دانہ بھی چڑیا ہی لائی۔ اب سوچیے اگر مونگ کی دال نہ ہوتی تو چڑیا کیا کرتی۔ بیچاری گاجر، مولی، ٹنڈے توری تو لانے سے رہی، نہ ہی وہ مرغ کی ٹانگ یا گائے کے پائے لا سکتی تھی۔ اس سے ثابت ہوا کہ مونگ کی دال پارلیمانی جمہوریت کے پھلنے پھولنے کے لیے بیحد ضروری ہے، کیونکہ یہ جمہوریت بغیر کھچڑی پکائے پنپتی ہی نہیں ہے، یقین نہ آئے تو تازہ ترین آرمی آرڈیننس کا ترمیمی بل ہی دیکھ لیجیے۔ کھچڑی اور وہ بھی مکھن کے بگھار والی ۔ اور جھانپڑ کے پاپڑ مستزاد۔ 
 ویسے کھچڑی تو دوسری دالوں کی بھی بنتی ہے مگر ایسی کھچڑیوں کو غیر پارلیمانی سمجھا جاتا ہے۔ حد یہ ہے کہ چنے کی دال کی کھچڑی کو تو سرے سے کھچڑی ہی نہیں کہا جاتا اسے قبولی کا نام دے کر شرَفِ قبولیت بخشا جاتا ہے۔ اور ایک کھچڑی تو بغیر دال کی بھی ہوتی ہے جس میں دال کی جگہ آلو ڈالے جاتے ہیں اور اسے تہری کا نام دیا جاتا ہے۔ شاید اس لیے کہ اس کھانے کی تین تہیں ہوتی ہیں، ایک تہہ جلے ہوئے چاولوں کی ، اس کے اوپر کچے پکے آلووں کی ایک تہہ، اور سب سے اوپر چمکتے دمکتے چاولوں کی ایک تہہ، جو آلووں کو ایسے چھپا لیتی ہے جیسے وہ کوئی گناہ ہوں۔
زمانہ قبل از تاریخ کی بات ہے، ہمارے ایک عزیز کراچی سے ہمارے گھر اسلام آباد تشریف لائے اور ایک ہفتہ رہنے کے بعد چار دن کے لیے اپنی بھتیجی کے پاس واہ گئے۔ واپس ہمارے پاس آئے تو واہ کی تصویریں دکھائیں۔ ایک تصویر کو دیکھ کر میں نے کہا کہ یہ شاید تیسرے دن کی ہے۔ حیران ہو کر بولے ہے تو تیسرے دن کی لیکن آپ کو کیسے پتا چلا؟ وہ تصویر کھانا کھاتے وقت کی تھی۔ ہم نے کہا کہ اس میں نظر آ رہا ہے کہ آپ لوگوں کی تواضع تہری سے کی گئی ہے۔ عموماً پہلے اور دوسرے دن تو پر تکّلف کھانے پیش کیے جاتے ہیں، اس لیے یہ تیسرے دن کی ہی ہو سکتی ہے جب مہمان کو گھر والا سمجھ لیا جاتا ہے، جو بلائے جان سے پہلے کا مرحلہ ہے۔ چوتھے دن یقیناً مونگ کی دال ملی ہو گی، جبھی آپ نے واپسی کی ٹھانی۔ اور یہ غنیمت ہوا، ورنہ جب مہمان سے کہنا ہوتا ہے کہ اب جاؤ بھی، تو بجائے سیدھے طریقے سے "گو ---بھی" کہنے کے اسے گوبھی کھلائی جاتی ہے، تو پانچویں دن شاید گوبھی ملتی۔ 
لیکن ہماری ناسخ رائے میں دال کے معاملے میں سب برا بھی نہیں ہے۔ (واضح رہے کہ یہ ناسخ رائے ہے ناقص نہیں، اور ناسخ رائے وہ ہوتی ہے جو روشن آرا، گلشن آرا اور شمیم آرا وغیرہ کو چھوڑ کر، دوسری تمام آراء کو منسوخ کر دیتی ہے۔) دال کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ ایک تو ہمیں اس وقت ہوا جب امریکہ کے شہر کولیراڈو میں ہمارا میزبان گورا جسے شاید انڈین اور پاکستانی کا فرق قابلِ نظر اندازیِ گورا لگتا تھا، یہ سوچ کر کہ شاید انڈین کھانا ہمارے لیے ست سری اکال کا کام کرے اور ہم نہال ہو جائیں، ہمیں ڈنر کے لیے ایک انڈین ریستوران لے کر گیا۔ یہ بات ہے اس وقت کی جب آتش جوان ہی نہیں تھا، بھڑک بھی رہا تھا، لیکن آداب مہمانی سے مجبور تھا۔ اس لیے اس گورے کے ساتھ چپ چاپ چلا گیا۔ گورے کے انداز و اطوار سے لگ رہا تھا کہ وہ اس ریستوران اور اس کے بھوجنوں اور کھرچنوں سے خوب واقف ہے، چنانچہ اس نے ہماری بھوک کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ویٹر کو کھانا آرڈر کر دیا۔ سب سے پہلے ایک سوپ آیا۔ اس سوپ کو دیکھ کر ہماری گھگھی بندھ گئی کیونکہ وہ مونگ کی دال کا پانی تھا، جس کی تہہ میں دال کے کچھ دانے بھی پڑے ہوئے تھے۔ اس وقت ہم کو انگریزی کا مقولہ اگنورینس از بلیسنگ یاد آیا، اور ہم اس گورے کی سادگی پر مسکرا کر سوپ پینے میں مشغول ہو گئے۔ اور دوسری بار یہ اندازہ اس وقت ہوا جب ہم کو پتا چلا کہ جہلم کے آس پاس ایک مرکزِ طعام 'میاں جی کی دال' کے نام سے مشہور تر ہے، جہاں دور دور سے لوگ دال کھانے آتے ہیں۔ تب ہمیں وہ کہاوت یاد آئی کہ یہ منہ اور مسور کی دال۔ اس لیے ہم نے اپنا منہ اپنے پاس ہی رکھا اور بیٹے کے اصرار کے باوجود میاں جی سے پردہ ہی کیا۔ 
ہاں البتّہ ایک دال ایسی بھی ہے جسے ہم بہت شوق سے کھاتے ہیں، اور وہ چنے کی دال ہے، اور ایک دال ایسی بھی ہے جسے ہم بہت شوق سے پیتے ہیں اور وہ ارہر کی دال ہے۔ہمارا یہ مقولہ یقیناً آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے کہ ارہر کی دال کھانے کی نہیں پینے کی چیز ہے، اور بقول ہمارے، ہم کو ارہر کی دال پینے سے نشہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ایک دوپہر ہم نے ارہر کی دال کے دو پیالے پینے کے بعد اعلان کیا کہ اب ہمیں نشہ ہو گیا ہے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب گھر میں ایک ہی کمپیوٹر ہوتا تھا جس کو تمام افراد خانہ باری باری استعمال کرتے تھے اور نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے کمپیوٹر پر پاس ورڈ لگایا جاتا تھا۔ یہ اعلان سن کر ہمارے شریف زادے رازی صاحب جو اب تو آرمی میں میجر ہیں مگر اس وقت کافی مائنر تھے، ہمارے پاس آئے اور بولے کہ اگر واقعی آپ کو نشہ ہو گیا ہے تو کمپیوٹر کا پاس ورڈ بتا دیجیے۔ چونکہ ہم کو واقعی نشہ ہو گیا تھا اس لیے بے اختیار ہم نے پاس ورڈ بتا دیا۔ اس کے بعد بچے اکثر اپنی ماں سے فرمائش کرتے پائے گئے کہ امی جی ابّو کے لیے نشے والی دال بنا دیجیے۔
 دال کی ایک بری بات یہ ہے کہ یہ اکثر گلتی نہیں ہے، خاص طور پر بے نواؤں اور بے سہاروں کی دال تو بالکل بھی نہیں گلتی، اور کبھی کبھار ہم جیسوں کی دال گر بھی جاتی ہے۔ دال گر جائے تو چلیے انسان قہر درویش بجان درویش کہہ کر چپ ہو جاتا ہے لیکن ایک صاحب کے اوپر دال اس وقت گری جب وہ ایک مکان کے چھجے کے نیچے سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے فَیل مچانا شروع کیا کہ کس نے پھینکی یہ دال باہر نکلو۔ وغیرہ وغیرہ۔ تھوڑی دیر میں ایک لحیم شحیم پہلوان دروازہ کھول کر نکلا اور بقول ہمارے دوست فیروز اختر کے نکلتا ہی چلا گیا۔ جب وہ پورا نکل آیا تو بولا کیا بات ہے کیوں شور مچا رہے ہو۔ وہ صاحب بولے دال آپ نے پھینکی تھی؟ پہلوان بولا ہاں، تم کو کیا تکلیف ہے۔ بولے بہت مزے کی تھی۔ اور ہے کیا؟ 
ہم پر کبھی ایسے دال تو نہیں گری مگر قورمے کی بھری ہوئی تھال ضرور کر چکی ہے، جب ہم ایک ولیمے میں بچ بچا کر ایک کونے میں کھڑے تھے کہ کہیں نئے نویلے کوٹ پتلون کے سوٹ پر سالن کا کوئی چھینٹا نہ پڑ جائے۔ پھر کیا ہوا ؟ یہ کہانی پھر سہی۔ -----------------٭٭٭٭٭٭٭
رنگِ مزاح (نثر) 
تحریر: آصف اکبر
یہ مضمون بزم زعفرانی مناثرہ کی 11 جنوری 2020 کو منعقد ہونے والی 17 ویں مزاحیہ نثر کی محفل میں پیش کیا گیا۔
 -----------------------

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔