میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 27 جنوری، 2020

بوڑھے مرد کی فریاد ۔ سنو تو سہی

میں ایک 66 سالہ پوتوں نواسوں والا مرد ہوں ۔میں خود کو بوڑھا نہیں سمجھتا ۔
جبکہ میری آل اولاد مجھے بوڑھے کے سانچے میں مکمل فٹ کرنے کی تگ و دو میں لگی رہتی ہے۔
  بڑی بہو ہر وقت مجھے پرہیزی کھانوں کی افادیت بتاتی رہتی ہے ،
"انکل ، اس عمر  میں زیادہ میٹھا،نمکین،چٹ پٹا کھانے کا مطلب قبر کے سرھانے کھڑے ہوناہے"۔
بیٹا کا جب بھی کہیں باہر جانا ہوتا ہے تو میرے لئے رنگ برنگی قیمتی  نمازی ٹوپیاں ،عطر،قیمتی تسبیح یا مسواک لانا نہیں بھولتا ۔ مجھے یاد ہے آج سے چند برس پہلے اس نے میرے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا
 "ابا جی آپ نے جتنی محنت مشقت کرنی تھی کر لی اب ہمیں اپنی خدمت کا موقع دیں آپ آرام کریں اور اللہ اللہ کریں"۔
 میری بیٹی جب بچوں سمیت میکے آتی ہے، تو بچوں کو کہتی ہے،
" نانا کے پاس بیٹھا کرو بزرگوں کے ساتھ بیٹھنے سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے" ۔ اور میں مسکرا دیتا ہوں۔ 
میرے بچے اچھے ہیں میرا خیال رکھتے ہیں۔ لیکن مجھے میرے مطابق جینے نہیں  دیتے ، یہ بات انہیں نہی پتا کہ ا ن کا ایسا خیال رکھنا میرے اندر عجیب سی مزاحمت پیدا کر رہا ہوتا ہے۔میں نے اپنی پوری جوانی انتہائی شرافت سے گزاری ہے(بدمعاشی تو اب بھی نہیں چاہتا)
ساری زندگی اپنی بیوی زہرہ اور اپنے بچوں کے ساتھ وفاداری سے گزاری ان کے آرام اور سکھ چین کے لئے جوانی وقف کر دی اور آخر کار اپنے بیوی بچوں کو ایک اچھا لائف اسٹائل دینے میں کامیاب ہوا ۔اب اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔لیکن میرے دل کے حالات میری عمر کے ساتھ میل نہیں کھاتے۔
 میرا دل چاہتا ہے میں اپنی زہرہ کا ہاتھ پکڑے ساحل سمندر پہ کوئی رومینٹک گیت گاؤں ، رنگ برنگی شرٹس پہنوں ، ساحل کی ریت پہ اپنی زہرہ کے ساتھ فٹبال کھیلوں، وہ ہر کک پہ خوشی سے تالیاں بجائے ، اس کی کلائیوں میں پڑی سرخ و سبز چوڑیوں کی کھنک ساحل سے ٹکراتی لہروں کی آواز سے ہم آہنگ ہوں تو کتنا خوبصورت منظر ہو۔
لیکن وہ تو پھیکے رنگوں والی   چوڑیاں پہنتی ہے ،میں نے رنگین چوڑیاں پہننے کےلئے لایا  ،  تو ناک سے مکھی ہٹانے والے انداز میں ہاتھ لہرایا اور جھینپ کے منہ پہ رکھ لیا کہنے لگی
" اقبال صاب بڈے وارے آپ کی یہ شوخیاں نری چولیں ہی لگتی ہیں" 
میری جوان امنگوں پہ بوڑھا پوچا پھیرتے ہوئے،  وہ دل ہی دل میں خود پہ فخر کر رہی ہوگی کہ اس عمر میں بھی اس کا بڈھا شوہر اس کے واری صدقے ہوا جاتا ہے ۔یہ بیویاں ہوتی ہی ایسی ہیں ، اوپری اوپری بے نیاز اور اندر سے شکر گزار لیکن جو کام کرنے والا ہوتا ہے وہ نہیں کرتیں۔خاوند کی باتوں کو مذاق ہی سمجھتی ہیں۔
 ایک بار چاند رات پہ بازار میں رنگ برنگی چوڑیاں دیکھ کے دل للچایا ، تو اپنی زہرہ کے لئےلے لیں۔ گھر آیا تو سب لاؤنج میں ہی بیٹھے ملے میں نے چوڑیاں زہرہ کو دیتے ہوۓ کہا ،
"اس عید پہ یہ والی چوڑیاں پہننا"۔
 وہ اس "حملے" کے لئے تیار نہ تھی بوکھلاتے ہوۓ ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔میری نظر بہوؤں پہ پڑی ، جو ایک دوسرے کو تمسخرانہ ہنسی کے ساتھ  آنکھوں آنکھوں میں معنی خیز نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ بیٹے الگ نظریں چرا رہے تھے ۔یعنی اب میں اپنی بیوی کو پسند کا کوئی تحفہ بھی نہیں دے سکتا ؟ کہ میرے بچوں کو برا لگتا ہے۔ کیوں برا لگتا ہے؟ کیا ان کی ماں میری بیوی نہیں؟
یہی بات میں نے روبی سے کہی ،تو ہنس کے کہنے لگی ،
" اقبال صاحب !ہم تو ہمیشہ سے ایسے تحفے کے منتظر ہی رہے۔ اگلی بار دل چاہے تو چوڑیاں ہمیں بھجوا دیجئے گا، واللہ انکار نہ کریں گے"۔
 وہ ایسی ہی ہے منٹوں میں بات کو ادھر ادھر کر کے من ہلکا کر دیتی ہے۔
 روبی میری فیس بک فرینڈ ہے۔ اسی نے دوستی کرنے میں پہل کی۔   وہ   چالیس  سالہ بینک آفیسر ہے،  بہت  پہلے والد کا انتقال ہو چکا ہے۔ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو پڑھایا لکھایا ۔ان کی شادیاں کیں سب اپنے گھروں میں خوش آباد ہیں۔ جبکہ  وہ بوڑھی ماں کے ساتھ رہتی ہے ۔
 اس کی شادی کا خیال اب پرانا ہوچکاہے ۔  اسی لئے کسی نے نہ سوچا یا شاید سوچنا نہیں چاہتے۔ ابھی ایک بیمار بوڑھی ماں کی تیمارداری کا آخری فرض اسی نے تو پورا کرنا ہے۔ کبھی کبھی فون کال پہ بھی ہماری بات ہو جاتی ہے زہرہ سے بھی بات کرتی ہے -
 زہرہ  اسے بیٹی کہتی ہے لیکن روبی ہمیشہ "زہرہ جی" کہہ کے پکارتی ہے،  وہ آنٹی، انکل ، اماں جی، بابا جی، جیسے ٹانکے نہیں لگاتی یا تو  وہ خود کو" بڑی" سمجھتی ہے یا پھر ہمیں بڈھے نہیں  مانتی۔ 
میں اسے جب بھی شادی کر لینے کا مشورہ دیتا ہوں ،تو جھٹ سے کہتی ہے "آپ سا کوئی ہو! تو سوچنے میں ایک منٹ نہ لگاؤں قسم سے"۔
 اس کی باتوں سے اس کی پسندیدگی چھلکتی ہے  یا شائد وہ  بات ختم کرنے کے لئے  کہتی ہے ۔ لیکن میں اپنی زہرہ سے بے وفائی نہیں کر سکتا۔یہ بات وہ بھی اچھی طرح سے جانتی ہے۔
فیس بک کی دنیا ہم جیسے ویلوں کے لئے  بہترین ہے ۔ 
نماز و اذکار کے بعد کی فراغت کا بہترین حل ہے۔
 ایک بار رات مجھے نیند نہیں آرہی تھی ، تو میں نے فیس بک کھول لی اور مصروف ہوگیا ۔ میرے بیٹے نے اتفاقا دیکھ لیا کہنے لگا،
"ابا جی یہ سب فضول کی چیزیں ہیں- رات اگر آنکھ کھل جائے تو تہجد پڑھ لیا کریں۔
٭٭٭٭٭

2 تبصرے:

  1. ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا
    بہت ہی عمدہ
    میری کہانی لگتی ہے

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔