میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 16 جنوری، 2020

میری نسل کیا ختم ہو جائے گی ؟

ڈاکٹر صاحبہ!!
کوئی ایسی دوا دیں کہ اس مرتبہ بیٹا ہی ہو۔ دوبیٹیاں پہلے ہیں اب تو بیٹا ہی ہونا چاہیئے۔

لیڈی ڈاکٹر: میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی دوائی نہیں ہے۔
ساس: پھر کسی اور ڈاکٹر کا بتا دیں؟
لیڈی ڈاکٹر:  آپ نے شاید بات غور سے نہیں سنی میں نے یہ نہیں کہا !
کہ مجھے دوائی کا نام نہیں آتا میں نے یہ کہا کہ میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی دوائی نہیں ہے۔


سسر: وہ فلاں لیڈی ڈاکٹر تو۔۔۔
لیڈی ڈاکٹر:  وہ جعلی ڈاکٹر ہوگی ،اس طرح کے دعوے جعلی پیر، فقیر، حکیم، وغیرہ کرتے ہیں سب فراڈ ہے یہ اللہ کے کام ہیں ۔ وہ صرف بیٹے دے یا صرف بیٹیاں دے اور یا  بیٹے اور بیٹیاں دے ۔ 
اور ہاں ، بیٹی یا بیٹا   ، بیوی کی وجہ سے نہیں شوہر کی وجہ سے ہوتا ہے ۔

شوہر: مطلب ہماری نسل پھر نہیں چلے گی؟
لیڈی ڈاکٹر:یہ نسل چلنا کیا ہوتا ہے ؟
   آپ کے جینز کا اگلی نسل میں ٹرانسفر ہونا ہی نسل چلنا ہے ،  اور  یہ کام تو آپ کی بیٹیاں بھی کر دیں گی۔  بیٹا کیوں ضروری ہے ؟ ویسے آپ بھی عام انسان ہیں آپ کی نسل میں ایسی کیا بات ہے جو بیٹے کے ذریعے ہی لازمی چلنی چاھیئے؟

سسر: میں سمجھا نہیں؟
لیڈی ڈاکٹر:  ساھیوال کی گائیوں کی ایک مخصوص نسل ہے جو دودھ زیادہ دیتی ہے،  بالفرض اس نسل کی ایک گائے بچ جاتی ہے تو فکر مند ہونا چاہیئے، کہ اس سے آگے نسل نہ چلی تو زیادہ دودھ دینے والی گائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔
 طوطوں کی ایک مخصوص قسم باتیں کرتی ہے۔ بالفرض اس نسل کی ایک طوطی بچ جاتی ہے تو فکر ہونی چاہیئے کہ اگر یہ بھی مر گئی ،  تو اس نسل کا خاتمہ ہو جائے گا۔ آپ لوگ عام انسان ہیں باقی چھ سات ارب کی طرح آخر آپ لوگوں میں ایسی کونسی خاص بات ہے؟

سسر: ڈاکٹرصاحب کوئی نام لینے والا بھی تو ہونا چاہیئے۔
لیڈی ڈاکٹر:آپ کے پَر دادے کا کیا نام ہے؟
سسر: وہ، میں، ہم مم مم، ہوں وہ۔۔۔۔
لیڈی ڈاکٹر: مجھے پتہ ہے آپ کو نام نہیں آتا،  آپ کے پر دادا کو بھی یہ ٹینشن ہو گی کہ میرا نام کون لے گا ؟ اور آج اُس کی اولاد کو اُس کا نام بھی پتہ نہیں۔ ویسے آپ کے مرنے کے بعد آپ کا نام کوئی لے یا نہ لے آپ کو کیا فرق پڑے گا ؟ آپ کا نام لینے سے قبر میں پڑی آپ کی ہڈیوں کو کونسا سرور آئے گا؟
 گنگا رام کو مرے ہوئے کافی سال ہو گئے ۔لیکن لوگ آج بھی گنگا رام ہسپتال کی وجہ سے گنگا رام کو نہیں بھولے!
ایدھی صاحب مر گئے لیکن نام ابھی بھی زندہ ہے اور رہے گا۔

کچھ ایسا کر جاؤ  کہ لوگ تمہارا نام لیں بے شک تمہاری نسلیں تمہیں بھول جائیں۔
ساس  : لیکن ڈاکٹر صاحبہ ، بیٹا نہ ہوا تو لوگ کیا کہیں گے ؟


لیڈی ڈاکٹر:بیٹے نعمت ہيں اور نعمتوں کا حساب لیا جائے گا ۔ بیٹياں رحمت ہيں اور رحمتوں کا کوئی حساب نہيں!
 بات صرف سمجھ کی ہے کیونکہ میرے ساتھ خود ہوچکا ہے۔
 میری دوسری بیٹی کی پیدائش پر مجھ سے اجنبیوں جیسا سلوک کیا گیا ،شوہر سمیت ، کوئی خوش نہیں ہوا ! 
نہ کسی نے آکر کھانے پینے  کا یا بچی  اور میری طبیعت کا پوچھا۔
یہ صرف ان پڑھ لوگوں میں نہیں ہوتا ،کچھ پڑھے لکھے لوگ بھی جاہل سوچ رکھتے ہیں۔
(منقول)

 ٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔