میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 24 فروری، 2020

ذیابیطس ٹائپ 2- انسان کو کیسے لگتی ہے ؟

  ٭- پہلا مضمون:ذیابیطس کیسے جسم کے ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بناتی ہے

٭٭٭٭٭٭
اوپر دیئے گئے مضمون میں آپ یہ تو پڑھ  چکے ہیں ، کہ  ذیابیطس جیسا موذی مرض شیر خوار بچوں کو کیسے لگتا ہے اور اُنہیں باقی زندگی ذیابیطس سے جنگ لڑنا پڑتی ہے ۔
اِس مضمون میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ، وہ جنھیں بچپن میں
ذیابیطس ٹائپ-1،    نہیں ہوتا  وہ     ذیابیطس ٹائپ-2،کا شکار کیسے ہو جاتے ہیں ؟
ذیابیطس   ایک دائمی بیماری ہے  جس کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں   - یہ  پیدائش سے لے کر  50 سال کی عمر تک کبھی بھی نمودار ہو سکتی ہے ۔   
اِس کی درج ذیل وجوہات ہیں :
1- آپ کا لبلبہ ، انسولین بنانے سے قاصر ہے ۔
2-آپ کا لبلبہ نا ہونے کے برابر انسولین بنا رہا ہے ۔
3-آپ کا جسم انسولین  کا ساتھ نہیں دے رہا جیسے اِسے دینا چاھئیے ۔ 
یہ تو آپ کے علم میں ہے ،  جب خون  میں   شوگر بڑھ جائے  ، تو کہتے ہیں کہ آپ کو شوگر ہو گئی ہے ۔  وجہ یہ ہے  کہ اب آپ کاجسم ہار چکا ہے اور وہ    بطور غذا کھائی جانے والی  شوگر کو   آپ کے جسم کے لئے صحیح طریقے سے استعمال کرنے سے قاصر ہے۔لہذا آپ اپنے جسم کو پریشانی سے بچانے  کے لئے جو سب سے پہلا قدم اٹھائیں گے وہ یہ کہ آپ چینی (مٹھاس ) سے لبریز  اشیاء کھانا فوراً ترک کردیں کیوں کہ آپ اپنے حصے کی چینی کھا چکے ہیں!


آپ کا لبلبہ جو اب تک آپ کی مٹھائی عیاشی میں آپ کا ساتھ دے رہا  تھا  اور آپ کے لئے   ، اِس چینی  کو آپ کے جسم کے لئے قوت  بنانے  کے لئے انسولین بنا رہا تھا ، یہ انسولین آپ  کی چھوٹی آنت میں   معدے سے  خوراک کے ملغوبے میں لپٹ  آئی ہوئی    چینی   کو   گلوکوز میں تبدیل کرتی ہے  اور چھوٹی آنت  سے یہ خون کی نالیوں میں چلی جاتی ہے  اوراگرانسولین   شوگر  کو قبول نہ کرے ،  تو وہ  شوگر ہی رہتی ہے ، جو جسم کے لئے خطرناک ہے ۔اور خون ہی میں گھومتی رہتی ہے ۔     لہذا گلوکوز (انسولین اور شوگر)    آپ کے جسم کے ہر  خلیے میں جاتی   اور آپ کا خلیہ توانائی حاصل کرتا ہے  اور اپنی نشوو نما برقرار رکھتا ہے ، اگر آپ یہ توانا ئی کسی کام میں استعمال کرتے ہیں  ، تو یہی خلیہ مزید توانائی کے لئے گلوکوز   مانگتا ہے ، جو اِسے خون سے فوراًمل جاتی ہے ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ جسم کے کن  خلیوں کو روزانہ گلوکوز کی کتنی ضروت ہوتی ہے ۔ 
  انسانی دماغ  (ہارڈ وئر)کو سب سے زیادہ گلوکوز کی ضرورت ہوتی ہے ، کیوں کہ وہ پورے جسم   کو سوتے اور جاگتے جبلّی  احکامات دیتا ہے ، پھر اُس میں جو انسانی ذہن،  نت نئے سافٹ وئر  روزانہ کے حساب سے پانچوں  حسوں (آنکھ، ناک ، کان ، زبان اور لمس) کی مدد سے بناتا ہے،  وہ باقی زندگی کے لئے محفوظ  رکھے جاتے ہیں اور پھرذہن  ،دماغ کی مدد سے اُن پر عمل کرواتا ہے ۔کیوں کہ انسانی جسم کو ہر قسم کی حرکت  کی ذمہ داری دماغ کی ہے  کیوں کہ تمام کنٹرول اُس کے پاس ہے ،وہ پورے جسم کا  باس ہے ،  جب ذہن تھک کر سو رہا ہوتا ہے اور جسم سکون کی حالت میں ہوتا ہے ، تو دماغ  سو فیصد جاگ رہا ہوتا ہے-اور دماغ کو روزانہ گلوکوز کی ضرورت ہوتی ہے  جو  انسانی جسم کا 60 فیصد بنتا ہے ،  گویا پورے جسم کو40 گرام گلوکوز کی سوتے وقت ضرورت ہوتی ہے -

 لیکن اگر آپ سست اور کاہل الوجود ہیں  ، تو آپ کے جسم کے خلیےبھی  آرام سے سو جاتےہیں ۔اب  جسم کے وہ خلیے جو حرکت میں ہوتے ہیں، تو   وہاں   گلوکوز پہنچا دیا جاتا ہے  اور جن کو ضرورت نہیں ہوتی اُن کے حصے کا  گلوکوز  کو    دماغ کے حکم سے ایمر جنسی سٹوریج یونٹ اور لانگ ٹرم سٹوریج یونٹ  میں پہنچا دیا جاتا ہے ، جہاں اُنہیں چربی میں تبدیل کرکے   مختلف  خانوں میں سٹور کر لیا جاتا ہے ۔ 
اور یوں آپ کا جسم موٹا ہونا شروع ہوتا ہے آپ خوش ہو جاتے ہیں کہ آپ کا جسم طاقتور ہو رہا ہے ، کیوں کہ آپ کے جسم پر گوشت چڑھ رہاہے ، جبکہ آپ کے جسم پر گوشت نہیں بلکہ  چربی چڑھ رہی ہے ۔ اور آپ کا وزن بڑھتا جا رہا ہے ، لیکن جب آپ ایکسرسائز کرتے ہیں ، تو  خلیوں میں پہنچنے والا گلوگوز  توانائی میں تبدیل ہوتا رہتا ہے  اور خون ،میں  شوگر اعتدال میں رہتی ہے ۔
آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب چھوٹے بچے  چاکلیٹ یا کوئی میٹھی چیز کھاتے ہیں تو وہ توانائی سے بھر جاتے ہیں اور خوب اچھل کود کرتے ہیں ۔  لہذا جتنی شوگر وہ کھاتے ہیں اُتنی وہ اچھل کود کرکے خرچ کردیتے ہیں  ۔ جوانی میں تو یہ اچھل کود بہت ہوتی ہے  ۔ لیکن عمر کے ساتھ ساتھ یہ کم ہوتی جاتی ہے ، لیکن خوراک وہی رہتی ہے ۔ یوں جسم پر چربی چڑھنا شروع ہو جاتی ہے ۔    شوگر،پروٹین اور چربی  انسانی جسم کی ضرورت ہے ، جو ہم اپنی غذا ؤں سے حاصل کرتے ہیں ۔

  آپ نے شائد نوٹ نہیں کیا ، خون میں بلڈ شوگر کا اضافہ   ، چربی اور کیلوسٹرول  کے اضافے کا باعث بنتی ہے ۔ لہذا یہ تینوں چیزیں اپنے پیٹ میں ایک مناسب مقدار میں ڈالیں ۔ 900 گرام خوراک ایک بالغ انسان کے معدے میں آتی ہے ۔ یعنی 24 گھنٹے میں آپ کے معدے میں   1800گرام سے زیادہ خوراک نہیں جانا چاھئیے ۔آپ اُسے تین حصوں میں تقسیم کرلیں    اور ایک وقت میں 600 گرام خوراک  لیں ، خوراک بڑھاتے جائیں معدہ بھی بڑھتا جائے گا ۔ معدہ بڑھے گا تو جسم پر چربی بھی چڑھے گی -



 اگر آپ کا وزن ، آپ کی عمر اور قد کے حساب سے ٹھیک ہے تو آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔ آپ پر ذیابیطس کے حملے کے چانس کم ہوجاتے ہیں ۔ بشرطیکہ آپ کے جین میں  کزن میرج سے یہ شامل نہیں   ہوئی تو ! لیکن اگر آپ کے جین میں شامل ہے تو پھر آپ کو اپنی خوراک کا استعمال اور وزن کا خیال لازمی رکھنا پڑے گا ، اِس طرح آپ اپنی   ذیابیطس ٹائپ-2،کو بارڈر پر روکنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ 
اب دیکھتے ہیں کہ   اِس کی  وجوہات  کیا ہیں :
 ٭- موروثیت ۔ جین ، سائینس دانوں کو   ڈی این اے کے مختلف ٹکڑے ملے ہیں ،جو جسم میں انسولین بنانے کے سسٹم کو متاثر کرتے ہیں ۔
٭-موٹاپا۔تمام بیماریوں کی جڑ ہے ۔ شوگر اور چربی سے لبریز جسم کے آگے انسولین بھی ہار مان جاتی ہے ۔ کتنے شوگر کے  وزن کو اپنے اوپر برداشت کرے اور پھر لبلبہ بھی انسولین نکالتے نکالتے تھک جاتا ہے ۔ یہ صورت حال اُس وقت پیش آتی ہے ، جس سستی اور کاہلی انسانی جسم پر طاری ہوتی ہے  یا پھر  عمر بڑھنے کے ساتھ ۔
٭-میٹا بولک سنڈروم ۔ کئی لوگوں کے جسم  کا نظام انسولین کو بلڈ شوگر کو گلوکوز میں تبدیل کرنے پر مزاحمت ڈالتا ہے ، اور یوں یہ شوگر  بطور چربی جسم میں  کمر کے گرد سٹور ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے  او ر  پھر  خون میں موجود چربی   (triglycerides)کہاں پیچھے رہتی ہے  وہ بھی اپنی مقدار بڑھا لیتی  اور رہا کیلوسٹرول(cholesterol)   وہ بھی انہی کے شانہ بشانہ چلتا ہے ۔


٭-جگر  کا  گلوکوز   مہیا کرنا ۔    جب  بلڈ شوگر میں کمی ہو جاتی ہے ، تو  جگر اپنے ایمر جنسی سٹوریج سے گلوکوز مہیا کرتا ہے ، جب آپ کھانا کھاتے ہیں  تو   بلڈ شوگر بڑھ جاتی ہے  ، جگر اِس کو اپنے پاس سٹور کرتا ہے   تاکہ بعد میں مہیا کرے ۔ لیکن کچھ لوگوں کا جگر   ، بلا ضرورت شوگر ریلیز کرتا رہتا ہے ۔
٭-  سیلز کے درمیان رابطے کا فقدان:  کچھ سیلز  غلط میسج دیتے ہیں یا میسج وصول کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، یوں غلط پیغامات کی ترسیل  کی وجہ سے  انسولین یا گلوکوز  کا استعمال  متاثر ہوتا ہے  اورذیابیطس کا سبب بنتی ہے ۔
٭- شکستہ بیٹا  (beta )سیلز :  اگر وہ سیلز جو انسولین بناتے ہیں  وہ انسولین کی غلط مقدار   کو غلط موقع  پر بناتی ہے ، جس سے  بلڈ شوگر  زیادہ ہوجاتی ہے اور  سیل کو نقصان پہنچاتی ہے ۔


جیسا کہ اوپر وضاحت کی ہے کہ وزن  اور ذیابیطس کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ جو اِس کی رفتار بڑھاتا ہے ، جو بیماری۔ جینیٹک   وابستگی سے  50 سال کی عمر میں  نمودار ہونی تھی وہ  وزن کی وجہ سے  14 سال میں بھی نمودار ہو سکتی ہے ۔ 
٭- دیگر وجوہات: لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ جنہیں  جینیٹک   وابستگی سے     ذیابیطس ٹائپ-2،لگتی ہے - اُن کے علاوہ بھی عوامل ہیں  جو اِس کی مدد کرتے ہیں، جو اِس چارٹ سے ظاہر ہیں :
٭-  لبلبے کا کینسر :  کینسر ایک تباہ کُن بیماری ہے ۔ جس کا حتمی نتیجہ موت ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں کینسر سے ہونے والی اموات میں یہ چوتھے نمبر پر ہے ۔
پانچ سال تک زندہ رہنے کا چانس 6٪ ہے جو بہترین ہے اور 12 ماہ سے زیادہ کی بقا غیر معمولی ہے۔ صرف 20٪ مریض علاج معالجے کی کوشش کے لئے مناسب سمجھے جاتے ہیں۔ کیموتھراپی سے معمولی فائدہ ہوتا ہے جبکہ ریڈیو تھراپی کے فوائد پر بحث کی جاسکتی ہے۔ اس بہت سی وجوہات ہیں۔ چونکہ لبلبہ پیٹ کی جھلی کے اندر موجود عضو ہے اور اس میں کینسر دیر سے ظاہر ہوتا ہے ۔ لیکن پھیل جاتا ہے ۔ ابتدائی علامات اکثر غیر مخصوص ہوتی ہیں۔ اس مرض کے لئے کوئی بائیو مارکر نہیں ہے۔ 
لبلبے کے کینسر کے خطرے والے عوامل میں عمر ، سگریٹ نوشی ، جینیٹک وابستگی  ، ذیابیطس اور  لبلبے کی دائمی سوزش شامل ہیں۔ لبلبے کے کینسر کا سب سے مضبوط اور معلوم خطرہ  لبلبے کی دائمی سوزش ہے ۔   5 سال تک رہنے والی ،لبلبے کی دائمی سوزش رکھنے والے  مریضوں کو عام آبادی کے مقابلے میں لبلبے کے کینسر کے پیدا ہونے کا خطرہ 14 گنا سے زیادہ ہوتا ہے-



اب ہم آتے ہیں اُس تلخ حقیقت پر ، کہ جس کو ذیابیطس   کی بیماری لگ گئی ، اب وہ ختم نہیں ہو سکتی ، لیکن بہت سے حکیم  اور ہومیو پیتھ  لوگوں کو یہ کہہ کر دھوکا دے رہے ہیں کہ وہ ذیابیطس جڑ سے ختم کر سکتے ہیں ۔ معلوم نہیں کیسے ؟
پرہیز سے  ، گولیاں اور گولیوں سے انسولین تک ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے ، لیکن حکیموں  کے مرکب اور 
ہومیو پیتھ نے یہ فاصلہ گھٹا دیا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تو میرے دوستو !
اگر آپ کے  دادا ، دادی یا نانا اور نانی  کو شوگر تھی ، تو آپ اپنے جسم میں جانے والی مٹھاس  کو کم کردیں ، اپنا شوگر ٹیسٹ ہر تین ماہ بعد کرائیں۔
یاد رکھیں  کہ جونہی آپ کو علم ہوتا ہے  کہ آپ ذیابیطس  کا شکار ہوچکے ہیں ، تو فوراً  درج ذیل باتوں پر عمل کریں:

1- ہر قسم کی مٹھاس یہاں تک کہ قدرتی مٹھاس کو فوراً بند کردیں ، ڈاکٹر سے  اپنی خوراک کا چارٹ بنائیں ۔ خوب واک کریں تاکہ آپ کے خون میں جانے والی مٹھاس ، توانائی بن  کر ختم ہوجائے ۔  
٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں ۔ شاید  آپ کی ہونے  والی  شوگر کا سدباب تو نہیں اب کمی  ہوسکے ! 

٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔