میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 19 فروری، 2020

مارکیٹنگ کا سنہری گُر-حاضر جوابی

 مارکیٹنگ آفیسر کے لئے انٹرویو ہورہا تھا۔ لیکن کمپنی کے باس  کے سالے کو پہلے ہی منتخب کر لیا گیا تھا ۔ مگر  دوسروں کو دکھانے کے لئے انٹرویو  لینے ضروری تھا ، اخبار میں اشتہار دیا گیا ،۔ مقررہ تاریخ پر امیدوار پہنچے ، اُن سے  باس نے ، ایسے سوالات پوچھے کہ جن کے جوابات  کسی کتاب میں نہیں لکھے تھے ۔
 لیکن بہرحال تھے تو سوال !
ایک میمن بھی انٹرویو کے لئے پہنچا ۔
باس :میں  ایک ندی کے درمیان ایک کشتی پر ہوں  اورمیرے پاس  دو سگریٹ  کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔مجھے ایک سگریٹ جلانی ہے ۔بتاؤ  کیسے جلاؤ ں گا  ؟؟؟
میمن : یہ تو کافی مشکل ہے ۔ جناب
لیکن اِس کے تین طریقے ہیں ۔

باس :😳(حیرانی سے ) ، بتاؤ ، بتاؤ  !
 میمن: آپ  ایک سگریٹ کو پانی میں پھینک دیں، یو ں کشتی لائٹر ہو جائے گی ۔
اور سر آپ کو معلوم ہے کہ لائیٹر سے سگریٹ تو کیا ہر چیز جلائی جاسکتی ہے !

😁😁

باس : (کی حالت )😳😳😳😳،  دوسرا طریقہ !
میمن:جناب ، آپ   ایک سگریٹ کو ہوا میں اچھالیں گا  اور اُسے کیچ کرلیں!
اور جناب آپ کو معلوم ہے  کہ کیچ سے میچ جیتا جاتا ہے !
جناب  جیتنے والی میچ  سے آپ  سگریٹ جلا لیں۔

باس : 😁😁😁😁،  تیسرا طریقہ !
 میمن:جناب، پانی کو اپنی ہتھیلی میں  لیں   اور اُسے قطرہ قطرہ گرائیں،
 آواز آئے گی ۔ ٹِپ ، ٹِپ -ٹِپ، ٹِپ ۔ ٹِپ ، ٹِپ -ٹِپ، ٹِپ ۔

باس : 😫😫😫،  اُس   ٹِپ ، ٹِپ سے کیا ہوگا ؟
  میمن:جناب، آپ نے وہ گانا سنا ہے ؟
ٹِپ ، ٹِپ برسا پانی  ،
 پانی نے آگ لگائی ۔
 بس جناب اُس آگ سے  سگریٹ  جلالیں۔
   میمن:جناب، اگر یہ کافی نہیں تو میرے پاس ایک چوتھا طریقہ بھی ہے ، وہ بتاؤں ؟ 

باس : 😫😫😫، ارےبتا  نا ،میرے باپ وہ بھی بتا دے !
    میمن:جناب،آپ   ایک سگریٹ سے محبت کرنا شروع کر دوں گا  ، دوسری خود بخود جل اُٹھے گی ۔ 😜😜😜😜😜😜

 باس :  سالے کو مارو گولی،
نوکری اِس میمن بھائی کی پکی ہوئی   !
یہ تو کسی کو کچھ بھی بیچ سکتا ہے ۔
٭٭٭٭

 

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔