میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 23 فروری، 2020

ذیابیطس کیسے جسم کے ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بناتی ہے ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭
کبھی آپ نے سوچا  کہ یہ جو ہم کھانا کھاتے ہیں ،  ان سب کا ہمارا کھانوں  کا ہمارے ڈیفنس سسٹم سے  کیا لینا دینا ہے، یہ تو بس ہمارا پیٹ بھرتا ہے یا پھر ہمیں قوت فراہم کرتا ہے ؟
کبھی آپ نے سوچا  کہ یہ جو ہم کھانا کھاتے ہیں ،  ان سب کا ہمارا کھانوں  کا ہمارے ڈیفنس سسٹم سے  کیا لینا دینا ہے، یہ تو بس ہمارا پیٹ بھرتا ہے یا پھر ہمیں قوت فراہم کرتا ہے ؟
اِس کے لئے  میں  مشورہ دوں   کہ بچوں کے لئے بننے والے ایک فلم     Osmosis Jones ضرور دیکھیں ۔ تو آپ کو معلوم ہوگا ، کہ بیرونی حملہ آور کیسے ہمارے کھانے  میں شامل ہو کر ہمارے جسمانی  ڈیفنس سسٹم کو نقصان پہنچاتے ہیں  اور  حملہ آور اینٹیجن ( antigen)  کو ہمارے خلیوں پر حملہ کرنے پر اکساتی ہیں۔کھانے کو معدے میں ہضم  کے عمل کے دوران  ، کچھ پروٹین  ، امینو ایسڈ حصوں میں مکمل طور پر تقسیم  ہوئے  بغیر آنتوں سے ہمارے خون  میں شامل ہو  جاتے ہیں۔ اِ ن  غیرہضم شدہ پروٹین  کی باقیات کو ہمارا ڈیفنس سسٹم بیرونی  حملہ آورسمجھتا ہے اور خودکار  تباہی   (autoimmune )    کےسسٹم کو متحرّک کر دیتا ہے ۔
گائے کا دودھ ایسی غذا ہے جس میں  ہمارے  پروٹین  کے مماثل پروٹین ہوتے ہیں ۔جب وہ  ہمارے معدے سے گذر کر ہماری آنتوں میں شامل ہوتے ہیں ، تو اُس میں موجود  اینٹیجن جو ہمارے جسم کے ایک خلیے ہی کی طرح دکھائی دیتے ہیں  ۔ لیکن ہمارا دفاعی سسٹم  دوست خلیوں اور حملہ آور  اینٹیجن  کی شناخت کر سکتا ہے ۔اور حملہ آور اینٹیجن ( antigen) کے خلاف  کولون ہمارے اپنے سیلز سے  بناتا ہے ۔ اب دوبدو مقابلے میں ، ہمارا ڈیفنس سسٹم  اپنے  کولونز کے فائر سے اپنے سیلز کو  بچاتا بھی ہے  اور یہ فیصلہ بھی کرتا ہے  کہ کون سا  پروٹین ( antigen) تباہ کیا جائے اور کون سا چھوڑ دیا جائے ۔
لیکن یہ پیچیدہ اور خودکار  طریقہءِ کار اُس وقت فائدہ مند ہوتا ہے کہ جب پورا ڈیفنس سسٹم صحت مند ہو  اور  اپنے پلان پر پوری طرح کاربند ہو ۔ بیمار خودکار ڈیفنس سسٹم  اپنی دوست اور دشمن کو پہچان کی خصوصیت کو  کھو بیٹھتا ہے  اور یوں وہ  دشمن کے ساتھ دوست کو بھی تباہ کرنا شروع کر دیتا ہے ۔

  ذیابیطس ٹائپ -1 :   کی صورت میں ،   مدافعتی نظام لبلبے کے خلیوں پر حملہ کرتا ہے جو انسولین تیار کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ تباہ کن ، لاعلاج بیماری بچوں کو متاثر کرتی ہے ، جوکسی بھی  گھرانے  کے لئے ایک تکلیف دہ اور مشکل سانحہ ہوتاہے۔ زیادہ تر لوگ یہ کہ وہ اپنے بچے یا بچی کو  اِس بیماری میں مبتلاء کرنے کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں ۔
موروثی بیماری یعنی ماں اور باپ سے   چلنے والی  کا  ہر بیماری سے سلسلہ جوڑا جاسکتا ہے۔ لیکن  ذیابیطس  ٹائپ -1 ، کا  تعلق خود ماں کی لاپرواہی سے ہوتا ہے ، جب وہ اپنے بچے کو ، طبّی وجوہات کے علاوہ  اپنے بچے کو اپنا دودھ ، ایک خاص مدّت تک  پلانے سے احتراز برتتی ہے ۔
 تحقیق کے بعد  اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ اس بیماری کا تعلق غذا اور خاص طور پر دودھ کی مصنوعات سے ہے۔کیسے ؟ 
آئیں دیکھتے ہیں :
٭- بچے کو ماں  زیادہ دن تک اپنے دودھ پر نہیں پالتی  اور اسے گائے کے دودھ  کے  پروٹین  یا ڈبے کے   شیر خوار فارمولے میں پالا جاتا ہے -
٭- جب یہ دودھ چھوٹی آنت تک پہنچتا ہے ، جہاں اسے اپنے امینو ایسڈ کے حصے میں ہضم ہونا  چاھئیے ۔
 ٭-کچھ نوزائیدہ بچوں کے لئے گائے کا دودھ پوری طرح ہضم نہیں ہوتا ہے ، اور امینو ایسڈ کے چھوٹے حصے یا اصلی پروٹین کے ٹکڑے آنت میں رہتے ہیں۔
٭- یہ نامکمل  ہاضم پروٹین کے ٹکڑے  بچے کے خون میں جذب ہو سکتے ہیں۔ 
٭-  مدافعتی نظام ان ٹکڑوں کو غیر ملکی حملہ آوروں کے طور پر پہچانتا ہے اور ان کو تباہ کرنے کا کام کرتا ہے۔
٭- بدقسمتی سے ، کچھ ٹکڑوں میں بالکل وہی  شبیہ نظر آتی ہے جیسے لبلبے کے خلیات جو انسولین بنانے میں ذمہ دار ہیں۔
٭-  مدافعتی نظام گائے کے دودھ کے  پروٹین کے ٹکڑوں اور لبلبے کے خلیوں کے مابین تمیز کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے ، اور ان دونوں کو ختم کردیتا ہے ، اس طرح سے انسولین پیدا کرنے کی بچے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

٭-  شیرخوار ایک ذیابیطس ٹائپ 1 بن جاتا ہے ، اور وہ اپنی باقی زندگی اِسی طرح بیرونی انسولین پر گذارتا  ہے۔
 گو کہ یہ ریسرچ اِس بات کو سپورٹ کرتی ہے کہ بچے کا بہترین جسمانی مدافعتی نظام کا انحصار ماں کے دودھ پر ہے ۔ کو کم از کم  چھ ماہ  سے دو سال  تک پلانا چاھئیے کیوں کہ اُس کی تمام اعضاء  ڈولپ ہو رہے ہوتے ہیں  جن کو مناسب خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ۔
انسان اپنے لئے نہایت آسان راستہ ڈھونڈتا ہے اور اُس کے لئے دلائل کے انبار لگا دیتا ہے ، کہ فلاں کا بچہ گائے کے یا پاؤڈر  کے دودھ پر پلا اور بالکل ٹھیک ہے ۔  لیکن اِس بات کو حتمی اِس لئے نہیں کہا جاسکتا  کہ ایسا سب بچوں کے ساتھ ہو گا ۔ اگر دس میں سے ایک یا سو میں سے ایک بچہ   بھی    ذیابیطس ٹائپ - :1    جیسے موذی مرض کا شکار ہو گیا ، اُس کی زندگی تو جہنم بن گئی  ۔کیوں کہ اب اُس نے ساری زندگی انسولین پر پلنا ہے ۔
بچوں میں عموماً یہ بیماری ، دو سال سے 10 سال کی عمر  میں ظاہر ہوتی ہے ۔
 وقت کے ساتھ ، ٹائپ 1 ذیابیطس کی پیچیدگیاں بچے  کے جسم کے بڑے اعضاء کو متاثر کرسکتی ہیں ، جن میں دل ، خون کی نالیوں ، اعصاب ، آنکھیں اور گردے شامل ہیں۔ بلڈ شوگر کی عام سطح کو برقرار رکھنے سے  بہت سارے  خطروں کو کم کیا جاسکتا ہے۔
1- دل اور خون کی نالی کی بیماری۔ ذیابیطس آپ کو مختلف قلبی امراض کے خطرے کو  بڑھاتا ہے ، بشمول سینے میں درد (انجائنا) ، دل کا دورہ پڑنے ، فالج ، شریانوں کو تنگ کرنے (Atherosclerosis) اور ہائی بلڈ پریشر سمیت دل کی شریانوں کی بیماریوں کے خطرے کو۔
2-  اعصابی نقصان ( Neuropathy) شوگر کی زیادتی سے خون کی چھوٹی چھوٹی وریدوں (کیپلیریوں) کی دیواروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے جو آپ کے اعصاب کو خوراک مہیا  کرتے ہیں ، خاص طور پر پیروں میں۔ اس سے جھگڑا ، بے حسی ، جلن یا درد ہوسکتا ہے جو عام طور پر انگلیوں یا انگلیوں کے کناروں سے  شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ اوپر کی طرف پھیل جاتا ہے۔ کمزور  طریقوں یا خود ساختہ علاج سے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے سے آپ متاثرہ اعضاء میں چھونے کی حس بالکل ختم کر سکتے ہیں۔
 معدے کی نالی کےمتاثرہ ، اعصاب   سے متلی ، الٹی ، اسہال یا قبض کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
3-  گردے کو نقصان (Nephropathy گردوں میں لاکھوں ننھے خون کی نالیوں کے کلسٹر ہوتے ہیں جو آپ کے خون سے ناکارہ مواد فلٹر کرتے ہیں۔ ذیابیطس اس نازک فلٹرنگ سسٹم کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ شدید نقصان گردے کی مکمل خرابی پر گردے کی بیماری کا سبب بن سکتا ہے ، جس میں ڈائلیسس یا گردے کی پیوند کاری کی ضرورت ہوجا تی ہے۔
4- آنکھوں کو نقصان۔ ذیابیطس ریٹنا کی خون کی رگوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے ، جو ممکنہ طور پر اندھا پن کا سبب بنتا ہے۔ ذیابیطس سے بصارت کے دیگر سنگین حالات جیسے موتیابند اور گلوکوما کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ 
5-جسم کو نقصان :  ذیابیطس کے مریضوں  کے جسم میں  زخم ٹھیک ہونے کا عمل سست پڑجاتا ہے اور زخم بہت دیر میں بھرتے ہیں اور بعض اوقات تو ذخم نہیں بھرتے  ۔ زخموں کے لئے سب سے آسان جگہیں پیر  اور ہاتھ کے ناخن اور انگلیاں ہیں، جن   میں اعصابی نقصان یا  خون کے بہاؤ سے   مختلف پیچیدگیاں ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر علاج نہ کیا جائے تو ، زخم اور پیروں میں پڑنے والے چھالے سنگین انفیکشن بن سکتے ہیں جن کو بالآخر پیر ، پیر یا ٹانگوں کے کاٹنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
6-جلد اور منہ کی حالتیں۔ ذیابیطس آپ کو جلد اور منہ کے انفیکشن کا زیادہ خطرہ بن سکتا ہے ، جس میں بیکٹیریل  اور فنگس انفیکشن بھی شامل ہیں۔ مسوڑوں کی بیماری اور خشک منہ  رہنا   بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے ۔
7- حمل کی پیچیدگیاں۔ ہائی بلڈ شوگر کی سطح ماں اور بچے دونوں کے لئے خطرناک ہوسکتی ہے۔ جب ذیابیطس پر قابو نہیں پایا جاتا ہے تو اسقاط حمل ، ولادت پیدائش اور پیدائشی نقائص کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماں کے لئے ،   ذیابیطس(keto acidosis) ،   آنکھوں کی خرابی (retinopathy ) ، حمل سے متاثرہ ہائی بلڈ پریشر اور پری ایکلم پسیا pre-eclampsia)کا خطرہ بڑھاتا ہے۔    پری ایکلم پسیا کی علامات ،  سوجن (  edema) کے علاوہ ، پیشاب میں پروٹین ، اور ہائی بلڈ پریشر  ہیں-
جسمانی سیال میں بڑے پیمانے پر اضافے کی وجہ  وزن  میں زیادہ  اضافہ -شدید سر درد -۔ پیٹ میں درد ، خاص طور پر اوپر  دائیں جانب-
    ذیابیطس ٹائپ -1  کی وجوھات :
 ایک مشہور رائے  یہ بھی ہے کہ   ذیابیطس ٹائپ -1جینیات کی وجہ سے  ہوتی ہےاور  اکثر ڈاکٹربھی یہی رائے رکھتے ہیں ۔ لیکن   جینیات کا   اس بیماری  میں زیادہ حصہ نہیں ہوتا ۔ جین اکیلے  کام نہیں کرتے ہیں۔ اُن اثر انداز ہونے کے لئے کسی ٹریگر کی ضرورت ہوتی ہے ۔  تحقیقات  سے یہ  معلوم ہوا ہے کہ ، اگر ایک جوڑے  کو ذیابیطس ٹائپ -1ہے  تو اُس کے بچوں میں   بھی   ذیابیطس ٹائپ -1 ہونے  کا خطرہ   صرف 13-33٪کا  امکان ہوتا ہے اور دوسرے بچے یا بچوں میں   ذیابیطس ٹائپ -1بالکل نہ ہو ۔حالانکہ دونوں  بچے  والدین سے ایک جیسے ہی جین لیتے ہیں ۔
چلی میں ہونے والی ایک تحقیق میں گائے کے دودھ اور جین کے پہلے دو عوامل پر غور کیا گیا۔ کہ شیر خوار بچوں کو بیماری کا خطرہ  زیادہ ہوتا ہے   ،۔ جینیاتی طور پر حساس (والدین میں سے کسی ایک کو ذیابیطس ہو) بچوں کو گائے  کا دودھ یا  گائے کے دودھ پر مبنی فارمولے پر دودھ  پلایا جائے ،    تو  اِن بچوں  کو  شیر خواری میں   13.1 گنا زیادہ  خطرہ ہوتا ہے نسبتاً اُن بچوں کو جو  کم از کم  تین ماہ  ،  ماں کا دودھ پلایا گیا ہو ۔ 
 امریکہ میں ہونے والی ایک اور تحقیق میں بتایا گیا ہے اگر  جینیاتی طور پر حساس ببچوں کو گائے  کا دودھ یا  گائے کے دودھ پر مبنی فارمولے پر دودھ  پلایا  جائے   تو  اِن بچوں  کو  شیر خواری میں   11.3 گنا زیادہ  خطرہ ہوتا ہے نسبتاً اُن بچوں کو جو  کم از کم  تین ماہ  ،  ماں کا دودھ پلایا گیا ہو ۔ 
حالیہ سروے کے مطابق:
٭- پاکستان  :3.53  ملیئن  افراد ذیا بیطس کا شکار ہیں ، لیکن ٹائپ 1  کا ڈیٹا دستیاب نہیں  ۔  

٭- امریکہ :  1.25  ملیئن  -بچے ، ذیابیطس  ٹائپ 1  میں مبتلا ہیں ۔
٭- برطانیہ  :  4  لاکھ- بچے ، ذیابیطس  ٹائپ 1  میں مبتلا ہیں ۔

٭- کینیڈا:  3  لاکھ- بچے، ذیابیطس  ٹائپ 1  میں مبتلا ہیں ۔
٭-انڈیا:  1  لاکھ- بچے  ، ذیابیطس  ٹائپ 1  میں مبتلا ہیں ۔


 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں ۔ شاید  آپ کی ہونے  والی  شوگر کا سدباب ہوسکے ! 
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔