میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 3 فروری، 2020

ووٹ چاھئیے تو ایک گدھا لا دو۔

ایک سیاست دان ، بلدیاتی انتخاب کے لئے ۔ ووٹ مانگنے کے لئے ایک بوڑھے آدمی کے پاس گیا اور اُسے  1000 روپے دیتے  ہوئےبولا:
"بابا جی. اس بار ووٹ مجھے دیں! "
بابا جی نے کہا :
" بیٹا مجھے پیسے نہیں چاہیئے۔  اگر  تمہیں ووٹ چاہیئے تو  بس ایک گدھا خرید کے لا دو!
سیاست دان کو ووٹ چاہیئے تھا۔  وہ گدھا خریدنے نکلا ! 
مگر کہی بھی. /20000 سے کم قیمت کوئی گدھا نہیں ملا! 
تو واپس آکر بابا جی سے بولا،
" بابا جی ، مناسب قیمت پر کوئی گدھا نہیں ملا !"
بابا جی نے پوچھا ، 
" کیوں ؟ گاؤں میں تو بہت گدھے ہیں ؟"
"بابا جی ، بہت مہنگے مل رہے ہیں ، کم سے کم  20   ہزار کا گدھا مل رہا  ہے" امید وار شرمندہ ہوتے بولا ۔
"شرمندہ ہوں ،  اس لئے میں آپ کو گدھا تو نہیں دے سکتا، لیکن /1000 دے سکتا ہوں !
بابا جی نے کہا. 
"بیٹا اور شرمندہ نا کرو ، ویسے ایک بات بتاؤ ؟"
" جی بزرگو پوچھئے ! "
بابا جی  اُفق کے پار دیکھتے ہوئے بولے :
" بیٹا  ، جب گدھا 20 ہزار روپے میں بھی نہیں بکتا ،

 تو کیا میری قیمت تمھاری نظر میں گدھے کے بچے سے بھی کم ہے ؟؟؟؟"  

  ٭٭٭٭
مزید پڑھیں  اور دل پر مت لیں ۔
٭- گدھے وزیر یا وزیر گدھے ۔

1 تبصرہ:

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔