میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 16 فروری، 2020

کرونا وائرس ۔ پھیپھڑے مضبوط بنائیں

انسان کی معلومات کے مطابق اس کائنات میں تقریباً تین لاکھ بیس ہزار وائرس ہر وقت موجود رہتے ہیں -
ہم ان میں سے صرف 219 کے نام جانتے ہیں یا یوں کہیے ریسرچرز ابھی تک ان میں سے, صرف 219 کو پہچان سکے ہیں - ان میں چند مشہور وائرس یہ ہیں :
چیچک، ڈینگی وائرس  ، ایبولا وائرس ،ریبیز ،اسمال پوکس ، چکن پوکس، پولیو ، خسرہ، ممپس ، روبیلا،  یرقان ، کالا یرقان،  فلو، تپ دق،  ہنٹا بخار-

اور اب نئی پروڈکٹ کرونا وائرس...!
 جس سے  UN-WHO  کے مطابق   ،آج 16 فروری  تک  کی متاثرین کی تعدا د اور اموات :
٭- چین میں متاثرین کی تعداد : 51،174 اموات : 1666
٭- باقی دنیا  کے 25 ملکوں میں  متاثرین کی تعداد : 638 ، اموات : 3


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کائنات میں موجود تین لاکھ بیس ہزار وائرس سے بچاؤ کے لیے، انسان کے پاس رب العالمین کی عطا کردہ ایک ایسی نعمت ، ڈھال، شیلڈ، شیلٹر موجود ہے .جسے قوت مدافعت یعنی امیون سسٹم کہتے ہیں،
یہ قوت مدافعت انسان کو پیدائش کے پہلے دن سے آخری دن تک ہر قسم کے وائرس سے محفوظ رکھتی ہے۔
لیکن کچھ کمزور قوت مدافعت والے افرادان وائرس کا شکار ہو جاتے ہیں اور ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے
لیکن وائرس ،کو خوفناک بنانے والے ،جن کا کاروبار ہے دھندہ ہے،وہ میڈیا سمیت ایک بڑا مافیا بنا کر اسےخوفناک جنات، بھوت پریت کی شکل میں دکھا کر دنیا کے اربوں انسانوں کو بےوقوف بنا کراربوں ڈالر کماتے ہیں۔
آپ یاد کیجیے کس طرح ایک دم کوئی ایک وائرس سارے میڈیا پر نمودار ہوتا ہےپھر اس کا خوف پھیلایا جاتا ہے اوردھندہ شروع ہو جاتا..!
ہر قسم کے وائرس سے محفوظ رہنے کا اصلی علاج توقوت مدافعت امیون سسٹم کو مضبوط کرنا ہے، جس کے لئے وٹامن سی بہترین شیلڈ ہے ، جو سٹرس پھولوں سے حاصل ہوتی  ہے ۔
جیسے  مالٹا، موسمی، کینو کا تازہ جوس ، آپ  وٹامن سی گولیوں سے بھی حاصل کر سکتے ہیں ۔

کرونا وائرس ، خاموشی سے پھیپھڑوں میں داخل ہوتا ہے ،   پھیپھڑوں میں اپنی تعداد بڑھاتا ہے   اور 14 دن بعدمعلوم ہوتا  ہے کی مریض  کرونا کے متاثرین میں شامل ہو چکا ہے ۔
اپنا ٹیسٹ خود کرنے کی ترکیب :
اپنا سانس کھینچ کر پھیپھڑوں  میں بھریں ، اور 20 سیکنڈ  تک روکیں ۔

اگر آپ کو یک دم کھانسی کا ٹھسکا لگتا ہے ، تو:-
1- آپ کے پھیپھڑے کمزور ہیں ۔یہ مشق دن میں کئی بار کریں ۔
2-
اگر آپ کو  بخار ہے تو  ،  فوراً ڈاکٹر کو دکھائیں -
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نیز  حبسِ دم کی مشق کرکے اپنے پھیپھڑوں کو مضبوط بنائیں -
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اب میں آتا ہوں کہ  عملِ تنفس اور حبسِ دم  کی مشق کیسے کی جائے ؟
   
 ٭ -    عملِ تنفس اور حبسِ دم کا ابتائی ٹیسٹ:
 جتنا زیادہ ہوسکے  لمبا سانس لے کر اپنے پھیپھڑوں میں ہوا بھریں پھر ساری سانس باہر نکال دیں-
پہلا حبسِ دم :  اب  مکمل سانس روک لیں ۔ سانس روکنے کا یہ دورانیہ  اپنی گھڑی پر نوٹ کریں ۔ 

٭-    عملِ تنفس اور حبسِ دم  کی مشق
 حبسِ دم :
٭-   آرام سے کسی بھی حالت میں بیٹھیں ۔  ٹائم نوٹ کریں اور
1-  اب  منہ سے جتنا سانس آہستہ آہستہ لے کر  پھیپھڑوں میں  بھریں ۔
2- جب تک روک سکتے ہیں سانس پھیپھڑوں  روکیں ۔
3-جب دم گھٹنے  کے قریب محسوس ہو ،    اور واپس  اُسی رفتار سے نکالیں - جس رفتار سے پھیپھڑوں میں بھرا تھا ۔
جب پھیپھڑے پورے خالی ہوجائیں تو  ٹائم دیکھیں ۔
یہ 15 سے 20 سیکنڈ ہونا چاھئیے ۔
ٹھیک دو منٹ بعد پھر حبسِ دم کی مشق کریں ۔
جتنی دیر تک حبسِ دم  کر سکتے ہیں کریں لیکن سانس نکالتے وقت جتنی آہستگی سے سانس نکال سکتے ہیں نکالیں  اور ٹائم نوٹ کر لیں  ۔ 
یہ مشق آپ کوایک نشت میں  20منٹ کے لئے  کرنا ہے، وقت اور جگہ کی قید نہیں ، صبح کریں یا شام ، آکسیجن ہر جگہ پائی جاتی ہے ۔ کل 10 دفعہ حبسِ دم کریں گےاور ہر دفعہ ٹائمنگ نوٹ کریں گے ۔ 

آپ دیکھیں گے کہ پہلے دن  ٹائمنگ میں فرق ہوگا - گو کہ یہ فرق معمولی ہوگا لیکن آپ اپنے  حبسِ دم  کی روزانہ مشق سے   کئی گناہ وقت بڑھا سکتے ہیں ۔
  نوٹ:
 ٭- آپ  20 ، 20 منٹ کا یہ عمل دن میں تین بار بھی کر سکتے ہیں اور زیادہ دفعہ بھی -
٭- پانی  بھری  بالٹی میں اپنا چہرہ  ڈبو یا تالاب میں بیٹھ ، کر اپنے  حبسِ دم کے وقت کو کسی سے کہہ کر با آسانی نوٹ کر واسکتے ہیں اور آپ اپنے سانس روکنے کی صلاحیتوں کو کئی گناہ بڑھا سکتے ہیں ۔

فائدے :
1- آپ کے جسم میں آکسیجن کی مقدار بڑھ جائے گی ۔ جو خون صاف کرنے میں مدد دے گی -
2- آپ کے ہارمونز صحت مند ہونا شروع کر دیں گے ۔
3-جسم کی حرارت بڑھ جائے گی -
4- حسیات توانا ہوجائیں گی ۔
5- سردی سے لگنے والی تمام بیماریاں غائب ہوجائیں گی ۔
6- دمہ کے مریضوں کے لئے نہایت فائدہ مند ہے ۔
7- سردیوں میں اگر آپ کو ٹھنڈ لگ رہی ہے تو سانس پھیپڑوں میں بھرنے اور جب تک ہوسکے روکنے اور پھر آہستہ آہستہ نکالیں ۔ تو سردی دور ہوجائے گی ۔
8- کسی  بھی جسمانی گیم کو شروع کرنے سے پہلے  ، عملِ تنفس دھرائیں تو جسم میں جانے والی آکسیجن چستی اور تونائی پیدا کر دے گی - 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔