میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 12 فروری، 2020

پران ٹمپورا ۔ بوڑھے کے چٹخارے

پران (فلمی اداکار نہیں ) بلکہ سمندر میں رہنے والی ایک حلال مخلوق ۔ 


ارے ، ارے گھبرا گئے ، یہ دیکھنے میں میں جتنی خوفناک نظر آتی ہے اُتنی نہیں یہ تو نہایت بے ضرر سی آبی مخلوق اور ذائقے میں نہایت مزیدار ہے ، یہی وجہ ہے کہ قیمت میں مہنگی بھی ہے ۔سُپر سٹور ز پر یہ ننھی مخلوق صفائی کے تمام مراحل سے گذرنے کے بعد یوں نظر آتی ہے ۔
تو ذکر ہو رہا تھا ، پران ٹمپورا کا ، ہوا یوں کہ تین ماہ کی جانگسل تلاش کے بعد بوڑھے کو  ایک امید کی کرن نظر آئی وہ بھی حلال تازہ مرغیوں کی صورت میں ، بوڑھا اور بڑھیا جب پاکستان سے دوبارہ سردیوں کی چھٹیاں گذار کر واپس آئے ، تو عارف خان کے ہاں   دعوت پر بڑھیا نے اپنے سب سے سینئر سٹیزن ہونے کی وجہ سے شکوہ کیا م کہ کیا یہاں حلال مرغی نہیں ملتی ، تو عارف خان کی بیگم نے کہا ،
" آنٹی آپ کو کتنی چاھئیں ؟"

" دو تین مل جائیں تو اچھا ہے "  بڑھیا نے کہا ۔
تیسرے دن مسز عارف کا فون آیا ،
"آنٹی آپ کے لئے تین مذبیحہ مرغیاں آگئی ہی آپ منگوا لیں ، میرے فریج میں جگہ کم ہے "
بڑھیا نے بوڑھے کو دوڑایا ، بوڑھا جاکر لے آیا اور بڑھیا کے حوالے کر دیں ۔  جو دعوت کے  حجابوں میں غائب ہوگئیں ، یوں بوڑھے کو   فریز کی ہوئی  مرغیوں کی سڈول رانوں سے ، کرسپی فرائیڈ چکن بنانا پڑا ۔
ضرور پڑھیں : بوڑھے کا زندگی میں پہلی بار    بنایا ہوا  کرسپی فرائیڈ چکن۔

 کل پھر مسز عارف کا فون آیا ، کہ آکر چکن لے جائیں ۔
بوڑھے اور بڑھیا نے    چم چم کو سکول چھوڑا اور ٹہلتے ہوئے ، عارف میاں کے گھر جا پہنچے ۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اِس دفعہ  4 چکن منگوائے ہیں۔ بڑھیا پریشان  بوڑھے سے سرگوشی کی ،
" دو چکن لے لیتے ہیں ، فریج میں جگہ نہیں "
" لے لو فریج میں جگہ بن جائے گی نہیں بنی تو پیٹ میں بنا لیں گے "بوڑھے نے کہا ۔
خیر وہ 4 چکن لے کر گھر پہنچے بوڑھے نے فریج کا  انتظامیانہ نگاہوں سے جائزہ لیا ۔
" سگّا کب آئے گی ؟" بوڑھے نے پوچھا
" معلوم نہیں شاید گھنٹہ لیٹ ہوجائے " بڑھیا نے جواب دیا ۔

سگّا ایتھوپیئن خاتون ہے جو  بڑھیا کی مدد کے لئے رکھی ہے ۔ 
خیر بوڑھے نے آستین چڑھائی اور مرغی کے حصے بخرے کئے  ۔ تو آخر میں چار پنجر بچے ۔
" یہ آپ نے کیسی مرغی کاٹی ہے ؟  اب پکانے میں کیا خاک مزہ آئے گا سارا مزا تو ہڈیوں میں ہوتا ہے  اور یہ آپ  پھینک رہے ہیں " بڑھیا نے صدائے  احتجاج بلند کی ۔

" کس نے کہا کہ پھینک رہا ہوں ؟"بوڑھے نے کہا ۔
" تو اِن کا کیاکریں گے " بڑھیا بولی 
" دیکھتی جاؤ " بوڑھے نے کہا  اور سارے پنجروں کو دھو کر پتیلے میں ڈال کر چولہے پر چڑھا دیا ۔آدھے گھنٹے بعد بڑھیا نے دیکھا اور کہا ،
" اِ ن  کی تو بڑی اچھی یخنی بن گئی ہے اب کیا کریں گے ؟" بڑھیا بولی 

" چکن کارن سوپ بناؤں گا " بوڑھا بولا ۔
" کون پیئے گا " بڑھیا نے پوچھا۔
" میں خود " بوڑھا بولا 

بوڑھا صرف ذہین ہے ، لیکن کھانے میں مصالحوں کے تناسب کی فطانت نہیں رکھتا ، لہذا بڑھیا کی مدد سے چکن کارن  سوپ بنایا ۔ 
اتنے میں چم چم کی ماما بھی آفس سے  آگئی ۔ 
" ماما ، خوشبو آرہی ہے ۔ کیا بنا رہی ہیں ؟" چم چم کی ماما نے پوچھا۔
" تمھارے پپا ، چکن کارن سوپ بنا رہے ہیں " بڑھیا بولی ۔
" اچھا " چم چم کی ماما نے  کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئی ۔ 
بوڑھے کو ایک دھچکہ لگا ، جو اُس نے سوپ چکھنے  کی آڑ میں برداشت کرنے    کی کوشش کی ۔ اوربڑھیا کے کہنے پر ایک چھوٹے پیالے میں سوپ ڈالا کہ  چم چم کو چکھائے  ،  چم چم سے پوچھا اُس نے کہا،
" نو آوا ، میں نہیں پیوں گی " 

اتنے میں چم چم کی ماما ، فریش ہو کر کچن میں آئی ، بڑھیا نے وہی چھوٹا پیالہ  بیٹی کی طرف بڑھایا ۔
" نہیں میں بڑا پیالہ لوں گی "  چم چم کی ماما بولی "ویسے ماما ، یہ چکن کار سوپ کس خوشی میں بنایا ہے ؟"
اِس سے پہلے کہ بڑھیا کچھ بولتی ، بوڑھا بولا،
"چاروں  چکن صاف کرکے ، الگ الگ پیس بنا کر فریج میں رکھ دیئے ، تو   جو حصے فرج میں نہیں جا سکے اُن کا سوپ بنا لیا"۔

" اچھا ہے " ،  چم چم کی ماما   سوپ چکھتے ہوئے  بولی ،
" عالی ، اِدھر آؤ یہ سوپ چکھو "  

" چم چم بادلِ ناخواستہ صوفے سے اُٹھی  ، اور ماں کے پاس آئی ، ماں نے ایک چمچ چکھا ،
" واؤ ، نانو  میں بھی لوں گی " چم چم بولی ۔

یوں  وہ چکن کارن  سوپ دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہو گیا ۔جو بڑھیا کے خیال میں اگلے تین دن صرف بوڑھے نے پینا تھا ۔
 چم چم بولی ۔
" نانو اور سوپ ہے ؟"
" ختم ہو گیا " بڑھیا بولی ۔
" میری جان ،میں کل دوبارہ بنا دوں گا۔" بوڑھا بولا ۔

" ماما ، کل پران بنائیں " چم چم کی ماما بولی۔
" مجھے بنانے نہیں آتے ، اپنے باپ کو کہو "بڑھیا نے صاف انکار کر دیا ۔
" پپا آپ یو ٹیوب پر، پران بنانے کی ترکیب دیکھیں ، اور ماما کی مدد سے کل بنائیں " چم چم کی ماما بولی ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭
تو  پیارے دوستو ، کل رات بوڑھے نے تقریباً 10 وڈیو دیکھیں  ، جن پر   پران بنانے کی تراکیب بتائی گئی تھیں۔تو بوڑھے نے" پران ٹمپورا" بنائے ۔
٭- پران   ۔ 1600 گرام ۔انہیں تیار کریں ۔
 ٭- سویا ساس۔حسبِ ضرورت
 ٭-سبزیاں- مشروم ، بینگن ، کنول کی جڑ ، پالک ،  Egomaیا Pirella کے پتے ، شلغم    ،پیٹھا کدّو وغیرہ تیار کر لیں ۔
٭-  اب ہم      Batter بنائیں گے ،

 سب سے پہلے ، انڈے میں  حسبِ ضرورت نمک ڈال کر اچھی طرح پھینٹیں ۔
 ایک  پیالے میں ، برف کے ساتھ ،برفیلا پانی ۔ 250 ملی لٹرڈالیں۔ 
اُس میں انڈے اور نمک والا مکسچر ملا دیں ۔ اور اچھی طرح ہلائیں ۔
ایک اور پیالے میں  میدہ     250 گرام چھان کر ڈالیں ( اگر آپ چٹخارہ چاہتے ہیں تو کالی مرچ ملا دیں اور اگر مزید چٹخارہ چاہتے ہیں تو   لال مرچ آپ کے لذتِ کام و دہن کو دوبالا کر سکتی ہے  ، بوڑھے نے بالترتیب  تیوں ذائقے آزمائے، یعنی صرف نمک ، پھر کالی مرچ  اور پھر لال مرچ )    
اور اُسے   پہلے پیالے میں انڈیل دیں اور نہایت آہستگی سے ملائیں زور سے ملانے کی کوشش مت کریں  ورنہ میدے  سے کرسپی پن ختم ہو جائے گا ۔ بلکہ اُس میں  چھوٹے چھوٹے لگدے(Lump) باقی رہنا چاھئیں ۔ یعنی اِسے اوور مکس نہ کریں۔
اِسBatter    کو بہت ٹھنڈا ہونا چاھئیے ۔   کیوں تلنے والا تیل بہت گرم ہوتا ہے ۔ ٹمپریچر کا یہ فرق  کرسپی پن کو جنم دیتا ہے ۔ 
اب تیل کو گرم کریں ، جب تیل گرم ہو جائے تو اِس میںBatter  کے چند قطرے ٹپکائیں ۔ یہ یک دم نیچے بیٹھیں گے اور ایک دم اوپر آجائیں گے تو آپ کا تیل 170 سے 180 درجہ سنٹی گریڈ پر پہنچ چکا ہے ۔
اب سب سے پہلے آپ سبزیاں  Batterمیں ڈبو کر تلیں ۔
یاد رکھیں جونہیں ، سبزیوں پر چڑھیBatter   جوں ہی سنہری ہونے لگتے ہے تو اُنہیں نکال لیں- سبزیوں کو تلتے وقت الگ  Batterکے مرمرے  بھی بنیں گے وہ نکال لیں ۔
اب مرحلہ ہے ، پران  یا شرمپس کو تلنے کا ۔ 
 پران  ،کے اوپر ہلکا میدہ  چھڑکیں ، اُنہیں ایک ایک کر کے  Batterمیں اچھی طرح بھگوئیں  اور یک دم تیل میں ڈال دیں ۔ اُن کے اوپر پھول نما پتیاں نکالنے کے لئے اُن پر ہلکا ہلکا Batter   ٹپکاتے  جائیں۔سنہری ہونے پر نکال لیں ۔
 لیکن ٹہریں کیا آپ نے اِن کی مکمل صفائی کی ہے ؟


ارے ہاں ایک بڑی ڈش میں نہ سجائیں ، بلکہ پلیٹوں میں سجائیں  تا کہ سب کو برابر کھانے کو ملے ۔ 
بوڑھا پران تلتا رہا ۔
" آوا ، اِس ریسیپی کو لاک کردیں " چم چم نے نمکین پران، چکھ آواز لگائی ۔
"پپا ، یہ ریسیپی لاک کریں"۔
چم چم ماما نے کالی مرچ والے ، پران چکھ آواز لگائی ۔
"سنیں  ، یہ بہترین بنے ہیں "۔بڑھیا نے لال مرچ والے ، پران کھانے کے بعد رائے ۔

بوڑھے نے اپنی ڈش سجائی۔

لیکن یہ کیا ؟ بوڑھے کو 1600 گرام پران ،میں سے صرف 5 کھانے کو ملے ! وہ  بھی 2 چم چم  کہہ کر لے اُڑی ۔
"آوا آپ کل بنائیں گے تو زیادہ کھا لینا ، نانو نے بتایا ہے کہ مرچوں والے زیادہ سپائسی ہیں ۔"

کیا سمجھے ؟
٭٭٭٭٭
  ٭٭٭٭٭
پڑھیں - بوڑھے کے بڑھاپے میں چٹخارے :

2 تبصرے:

  1. آپ نے تو ایک شاندار اور مکمل تھیسس لکھدیا. ایسے دوچار اور تھیسس لکھیں. مواد آپ کی پٹاری میں پہلے سے موجود ہے اور وڈیوز کے ساتھ یو ٹیوب پر ڈال دیں. بہت سوں کا بھلا ہوگا.

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔