میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 17 فروری، 2020

فرائیڈ فِش - بوڑھے کے چٹخارے

اتوار کو بوڑھا  اور بڑھیا   جھینگے لینے  ہلٹن ہوٹل کے "نووس  سُپر سٹور " پر گئے ۔ 
شاید بوڑھے کے پران ٹمپورا  بلاگ پر پڑھ کر   ،  سارے پاکستانیوں  نے عدیس ابابا سے  پران اُٹھا لئے  اور جو باقی بچے ، وہ  ڈیپ فریزر سے مکمل یونیفارم پہنے جھانک رہے تھے ، اُنہیں دیکھ کر بڑھیا ڈر کر پیچھے ہٹ گئی ۔ 
" یہ کیسے پران ہیں ؟ اِنہوں نے صاف نہیں کئے " بڑھیا بولی ۔
" ہم کر لیں گے " بوڑھا بولا 
" نہیں مجھے گھِن آرہی ہے "  بڑھیا بولی "کسی شعا ع سپر سٹور   پر چلتے ہیں ۔ وہاں سے مل جائیں گے "
تمام سپر سٹور دیکھ ڈالے ، پران کہیں بھی نہ  ملے ۔
" اب کیا کیا جائے ؟" بوڑھے نے پوچھا 

" رہنے دیں  ، پھر بنا لیں گے " بڑھیا بولی ۔
بوڑھے نے چم چم کی ماما کو فون کیا ساری صورتِ حال بتائی ، تو بوڑھے اور اُس کی بیٹی میں یہ طے پایا کہ مچھلی بنائی جائے ۔ تو بوڑھے نے مچھلی کے دوپیکٹ ،یعنی دو کلو مچھلی اُٹھا لی ۔ہر پیکٹ میں مکمل صاف مچھلی کے تین تین پیس تھے ۔
خریداری کے بعد ہوٹل واپس آئے ،  تومعلوم ہوا کہ ، چم چم کی ماما کی کولیگ ، آفس جاتے ہوئے راستے میں ، بڑھیا سے پراٹھے سیکھنے آئیں گی ۔  
بڑھیا نے جلدی جلدی  ، کھانے کا انتظام کیا ۔ دونوں کولیگ آئیں ، اُنہوں نے بڑھیا کی ہدایت کے مطابق آٹا گوندھااور پراٹھے بنائے ۔
لہذا ، فرائیڈ فش کا پروگرام ملتوی ہو گیا ۔
آج   یعنی سوموار کا پروگرام بنا ۔ تو دوستو بوڑھے نے ، بڑھیا کی مدد سے  لذیذ فرائیڈ فش بنائی ۔  جس کی تصویری جھکیاں پیش خدمت ہیں :

1- مچھلی کو برف سے نکالنا اور اُس کےٹکڑے بنانا ۔
2- مچھلی کے  ٹکڑوں کو دھونا ۔
3-مچھلی کے دھلے ٹکڑوں کو جالی میں رکھ کر نتھارنا اوراچھی طرح خشک کرنا۔
4- بیٹر  (Batter) بنانے کے لئے ایک پیالی چاول کا آٹا اور دو پیالی میدہ لے کر اُس میں حسبِ ضرورت نمک اور کالی مرچ ڈال کر اچھی طرح ملا لینا ۔  
5- مچھلی کے ٹکڑوں پر ہلکا  سا میدا چھڑکنا ۔
6- ایک پیالے میں، انڈے کو ٹھنڈے پای میں پھینٹنا اور 
بیٹر  (Batter)میں ملانا۔ اِس آمیزے میں برف کے ٹکڑے ڈالنا  تاکہ آمیزہ خوب ٹھنڈا ہوجائے -

7- مچھلی کے ایک ایک ٹکڑے پر اچھی طرح    بیٹر  (Batter) لگا کر-
8-اُبلتے تیل میں ڈال دینا ۔
9-جو تقریباً  7 سے 8 منٹ  پکنے میں لے گا ۔

اگر  پکنے کے بعد بچ گئے تو اُنہیں ڈِش میں سجا کر خود کھانا ۔ کیوں کہ  چم چم، چم چم کی ماما ، چم چم کی نانو ۔ گرما گرم اُٹھا کر کھاتی رہیں ۔
بوڑھے نے سب سے آخر میں ، بیٹر  (Batter)، لال مرچ ڈالی ، دڑا مرچ ڈالی اور اپنے طریقے سے خوب  چٹخارے دا ر  فرائیڈ فِش بنائی اور مزے سے کھائی ۔

 ٭٭٭٭ ٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔