میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 21 فروری، 2020

انسانی جسم کا خود کا ر ڈیفنس سسٹم -


 ٭- پہلا مضمون: ذیا بیطس کیا ہے ؟
٭٭٭٭٭٭٭
ہمارے جسم کا دفاعی نظام ایک ایسے فوجی نیٹ ورک کی طرح ہے جو غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف دفاع کے لئے قدرت نے  تیار کیا ہواہے۔
 ِاس نیٹ ورک کے "سپاہی" خون کے سفید خلیے ہیں ، جو بہت سے مختلف ذیلی گروپوں پر مشتمل ہیں-ہر ایک کا اپنا مشن ہوتا ہے۔ یہ ذیلی گروپ ایک بحریہ ، فوج ، فضائیہ اور سمندری راستہ کے مترادف ہیں ، اِن  ماہرینِ دفاع،   کا ہر گروپ انتہائی مہارت سے اپنا کام کرانجام دے رہا ہے ۔یہ حفاظتی دستے پورے جسم میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ 

حفاظتی نظام کے محافظوں کے   "بھرتی مرکز" ہماری ہڈیوں کےگودے میں ہے۔

ہڈیوں کے گودے میں  خصوصی خلیوں کو تیار کرنے کے لئے ذمہ داری ہے جسے اسٹیم سیل ( stem cells)کہتے ہیں۔
یہ بی سیلز اور  ٹی سیلز   کے طور پر جانے جاتے ہیں ،  یہ "سپاہی" خلیے ، دوسرے مخصوص خلیوں کے ساتھ ، دفاعی پیچیدہ منصوبے تیار کرنے کے لئے ٹیم تیار کرتے ہیں۔ وہ جسم کے ارد گرد بڑے چوراہوں پر ملتے ہیں ، جس میں تلیّ  اورغدود ( lymph nodes) شامل ہیں۔ یہ ملاقات کے مقامات کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرز کی طرح ہیں ، جہاں "فوجی دستے" غیر ملکی حملہ آوروں پر حملہ کرنے کے لئے اپنی ٹیموں میں دوبارہ ترتیب دیتے ہیں۔
جب وہ باہمی امداد  سے  اپنی ٹیمیں تشکیل دیتے ہیں تو ایک بہترین حفاظتی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں اور مختلف حالات اور مختلف حملہ آور ، نئے ہتھیاروں سے لیس ،یہاں تک  اجنبیوں جن سے پہلے اِن کا واسطہ نہ پڑا ہو ،   اُن کے لئے مدافعتی ردعمل ایک ناقابل یقین حد تک ،قدرت کے حقیقی عجائبات میں سے ایک ہے-
 لیکن ایسا بھی ہوتا ہے ، کہ بیرونی پروٹینک حملہ آوروں کی کاپی بنانے کے بعد  ، یہ  الٹا ہمارے ہی   پروٹینک دفاع پر بھی حملہ سکتے ہیں - یہ ایک پیچیدہ نظام ہے جس میں کسی وجہ سے اِس دفاعی نظام میں شناخت کا نظام گڑبڑا جاتا ہے اور یہ اُس وقت ہوتا ہے کہ جب ہماری خوراک  میں کچھ خرابی مل گئی ہو اور  خراب خوراک کے پروٹین آنتوں سے ہمار ے خون میں شامل ہوجائیں!
اور یہ بالکل ایساہوتا ہے کہ، مدافعتی جنگ میں آپ اپنے فرینڈلی فائر کی زد میں آجائیں ۔لہذا  ہمارے مدافعتی نظام کو اتنا اعلیٰ ہونا چاہیئے کہ وہ وہ فیصلہ کرے کہ  کون  حملہ آور ہے اور کون اپنا ساتھی ، کسے مارنا ہے اور کسے چھوڑنا ہے ۔
میں خود تھا اپنی ذات کے پیچھے پڑا ہو 
میرا شمار بھی میرے دشمنوں میں تھا

اگرچہ ہمارے جسم کا  یہ مدافعاتی  نظام فطرت کا ایک عجوبہ ہے-   وہ جسم  کی سرحدوں میں، دفاعی سسٹم  کی  اجازت  کے بغیر  داخل ہونے والی  بیرونی پروٹین کے خلاف دفاعی  حربے بناتا ہے  ، لیکن  یہ بعض اوقات  یہ خود  بھی اُسی ٹشوز پر حملہ  آور ہو جاتا ہے ۔جس کی حفاظت کے لئے اِسے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ خودکشی کا یہ  نظام  تمام بیماریوں میں عام ہے۔  
  بیرونی حملہ  آور پروٹین کے   خلیات  ہیں جو اینٹیجن(Antigens) کہلاتے ہیں۔ یہ خلیات ،   جراثیم یا ایک وائرس ہوسکتے ہیں ، جو جسم کو نقصان پہنچانے کے کے لئے جسم میں داخل ہوتے ہیں ۔ جوں ہی یہ ہمارے جسم  کے ڈیفنس سسٹم  کے نوٹس میں آتے ہیں تو  وہ ان کو تباہ کردیتا ہے۔ لیکن ان میں سے ہر اینٹیجن(Antigens)   اپنی  علیحدہ  شناخت رکھتا ہے- چونکہ متعدد امینو ایسڈ پروٹین بنانے کے لئے  دستیاب ہیں ، لہذا ہر امینو ایسڈ پروٹین سے مل کر لاتعداد چہرے بناتا ہے- یوںسمجھیں  کہ امینو ایسڈ  میک اَپ کا جدید ترین سامان ہے۔
 ان اینٹیجنوں کا مقابلہ کرنے کےلئے ، ہمارے جسمانی ڈیفنس سسٹم  کو ہر حملے کےلئے  اپنے دفاع کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا ۔ یہ ہر حملہ آور کے لئے، اپنے مائینو ایسڈ سے  ، پروٹین  میں ہم شکل( کولون-  Mirror image)  بنا کر کرتا ہے   , جو ہوبہو   اینٹیجن  پر بالکل فٹ ہونے اور اسے ختم کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر ، ڈیفنس سسٹم (قوت مدافعت  ) کا جب بھی کسی  اینٹیجن سے ہوتا ہے  وہ اُس کا  سانچا (مولڈ)  بناتاہے۔ جب بھی ابتدائی تصادم کے بعد وہ اس چہرے کو دیکھتا ہے ، تو وہ حملہ آور کو "پکڑنے" اور اسے ختم کرنے کے لئے کسٹم میڈ  جوابی حملہ آور بنا دیتا ہے ۔ یہ سانچے ،بی سیل(  اینٹی باڈی )یا ٹی سیل( رسیپٹر)  پروٹین  کے ہو سکتے ہیں ۔
   اس خود ساختہ ڈیفنس سسٹم  کو  سالماتی نقل (کلوننگ ) کہا جاتا ہے۔اِس کی مثال ہم مشہور  پاکستانی ایکٹر معین اختر کی نقالی سے سمجھ سکتے ہیں ۔
اب    ایسا ہوتا ہے کہ بیرونی حملہ  آور اور ہمارے جوابی حملہ کرنے والے سپاہی    دونوں کے ایک خدوخال ہوتے ہیں ، کیوں کہ ہمارے  سپاہی ، اُن کا کولون  روپ دھار لیتے ہیں-اور  انہیں  آسانی سے چال (Trick)   کے ساتھ  تباہ کردیتے ہیں ۔اِن  دفاعی کولون  پر  ایک  شناختی کوڈ ہوتا ہے ، جو  دفاعی سسٹم  میں ریکارڈ ہوتا ہے ، کہ فلاں  بیرونی حملہ آور کے روپ میں ہمارا نمائیندہ ہے ، لہذا  وہ تمام  دفاعی سپاہی اُسے نقصان نہیں پہنچاتے ،  لیکن اگر  حملہ آور  میں اتنی قوت ہو کہ وہ ، دفاعی سپاہی  پر حملہ  آور کی شناخت مٹا دے   ، تو ہمارے سپاہیوں کے لئے وہ اب ایک  حملہ آور   نظر آئے گا ۔
اب  دفاعی سسٹم  جو ان حملہ آوروں کو فٹ بیٹھتا ہے وہ ہمارے اپنے خلیوں  (کولون )پر بھی فٹ بیٹھتا ہے۔  دفاعی سسٹم ، مخصوص  حالات میں ، ہر وہ چیز جو ہمارے سانچے سمیت پر فٹ بیٹھتا ہے ، کو تباہ کردیتا ہے۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ خود کو تباہ کرنے والا عمل ہے جس میں  دفاعی سسٹم کی بہت ساری حکمت عملیوں کو شامل کیا جاتا ہے-
یہ   دفاعی سسٹم   ناقابل یقین حد تک پیچیدہ ہے ،لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے ؟   
ہوتا یہ ہے کہ   دفاعی سسٹم بعض اوقات  خود سے ہونے والی بیماریوں کے ساتھ ٹوٹ جاتا ہے۔اور یہ  جسم کے خلیوں اور حملہ آور اینٹیجن کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے ، اور جسمانی خلیوں کو "تربیت" کے لئے استعمال کرنے کے بجائے حملہ آوروں کے ساتھ مل کر انھیں تباہ کردیتا ہے۔
 اور  بیماری کے باعث   دفاعی سسٹم  کی  ہمارے جسم کے پروٹین سے "غیر ملکی" حملہ آور پروٹین کی تمیز کرنے کے قابل نہ ہونے کے  مہلک نقائص ہوتے  ہیں۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں ۔ شاید  آپ کی ہونے  والی  شوگر کا سدباب ہوسکے ! 
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔