میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 23 مارچ، 2020

کرونا وائرس - گلوبل ورلڈ کے لئے خطرہ

٭٭٭٭ ٭٭٭٭  
چین نے 31 دسمبر 2019 میں وارلڈ ہیلتھ آرگنائزیش، میں اطلاع دی کے 11 ملیئن کی آبادی والے شہر ووھان میں  ، ھنان  سمندری غذا کی مارکیٹ میں  دکانداروں اور گاہکوں کو   انجانی قسم کے نمونیا نے 40 سے زیادہ  لوگوں کو بیمار کیا ہے اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے - لہذا مارکیٹ کو 1 جنوری کو بند کردیا گیا ہے ۔ 

5 جنوری کو چینیوں نے اِس خیال کو مسترد کردیا کہ یہ وہی وائرس ہے جو 2002 اور 2003 میں (SARS)  کے نام سے چین میں پھیلا ،جس سے لوگوں کو شدید سانس کی تکلیف ہوئی اور 770 افراد ہلاک ہوئے ۔
7 جنوری کو چینیوں نے بتایا کہ یہ وائرس ناول کرونا -2019 ہے جو SARSکی ہی فیملی کا سردیوں کا وائرس  ہے - جو فلو کے وائرس کی طرح مریض کے چھینکنے ، ہاتھ لگانے سے دوسرے لوگوںمیں  پھیل رہا ہے ۔
11 جنوری، یعنی بیماری کا معلوم  ہونے کے، 12 دن بعد، ایک بوڑھے    آدمی کے  ووھان میں مرنے کی اطلاع چینیوں نے دی جس کے مطابق اُس نے   سمندری غذا کی مارکیٹ سے سودا خریدا تھا ۔اور نامعلوم وائرس کا شکار ہوا تھا ،


 13 جنوری ، ( 14 دن  ) کو  تھائی لینڈ نے ووھان سے آنے والی ایک خاتون میں وائرس ناول کرونا -2019 کی تصدیق کی  -
15 جنوری،( 16 دن بعد) ، و   پاکستانیوں کو ووہان یونیورسٹی  کے طلبہ سے معلوم ہو چکا تھا کہ چین میں وبائی مرض پھیل رہا ہے ، ہمیں کمروں میں بند کر دیا گیا ہے -
17 جنوری،( 18 دن بعد) ، چینیوں نے ایک اور موت کا اعلان کیا ، یہ خبر سنتے ہی امریکہ نے اپنے  ائرپورٹ پر ہر آنے والے مسافر کو سکریننگ سے گذرنے کا حکم دے دیا ۔
اگلے دنوں میں امریکہ ، نیپال، فرانس، آسٹریلیا ، ملائشیاء  ، سنگا پور ، جنوبی کوریا ، ویت نام  اور تائیوان نے ،وائرس ناول کرونا -2019 کے اپنے اپنے ملک میں پہنچنے کی تصدیق کر دی ۔
20 جنوری،( 21 دن بعد) ، چینیوں نے تیسری موت کی تصدیق کی اور بتایا کہ ہوبے ، بیجنگ ، شنگھائی  اور شینزان کے علاقوں میں بھی کرونا وائر پھیل چکا ہے ۔ 
چینیوں کو خوف تھا ، کہ  چاند کے سال کی چھٹیوں  میں لاکھوں افراد، چین میں اور چین سے باہر جائیں گے ، جس سے یہ وباء شدت سے پوری دنیا میں پھیل جائے گی ۔لہذا چینیوں نے اِن تقریبات کو منسوخ کر دیا

22 جنوری،( 22 دن بعد)، چینیوں نے17 مزید ا موات  اور 550 افراد  کے مریض ہونے کی تصدیق کی-
23 جنوری،( 24 دن بعد) ، چینیوں نے ووھان کا ہر قسم کا ر ابطہ ختم کرکے اُسے مکمل طور پر آنے اور جانے کے لئے بند کردیا ۔
 وہاں موجود پاکستانی طلبہ نے31 جنوری  کو ، اپنی وڈیو پاکستان بھجوائی جو پورے پاکستان میں وٹس ایپ اور  ٹی وی اینکروں نے وائرل کردی ، یوں  پاکستان  حکومت اور  پاکستانی   باشندوں کو   دنیا بھر میں کرونا کے بارے میں معلوم ہوا ۔ 
یوں پاکستان میں  Conspiracy Theory پھیلانے والوں کی موجیں ہوگئیں ۔ اسلامو فاشسٹ کیوں پیچھے رہتے ؟  اُنہوں نے بھی حرام و حلال   کی   خوراکوں پر   اپنی دُکان چمکانا شروع کر دی ، ماسک میں لوگوں کو دیکھا ، تو پردے ، برقعے کی افادیت اجاگر کرنا شروع کردی ۔  جس کی وجہ  شاید   !

23 جنوری،کا یہ اعلان تھا کہ 25 جنوری کو منائے جانے والے ، "   چاند کے سال"  کو ختم کرنا ، ایک جلد بازی کے سواء کچھ نہیں ، کیوں کہ اُنھیں  اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ کرونا وائرس ، انسانوں کے ذریعے  پوری دنیا میں منتقل ہو سکتا ہے  لہذا۔ 
"  صورت حال کو گھمبیر بنا کر پیش نہ کیا جائے "
صورتِ حال کو گھمبیر بنانے کے لئے  ، پہلے سے لوگ میدان میں اترے ہوئے تھے ۔  پرانے لکھے گئے ناولوں ، فلموں کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے   کہ یہ چین اور امریکہ کی جنگ ہے جس کی آگ کو امریکہ چین سے نکلنے نہیں دے گا ، زیادہ سے زیادہ یہ ھوگا کہ یہ  صرف چین کے ملحقہ ملکوں میں پھیلے  گے اور پاکستان  مزاروں ،ملاؤں اور طارق جمیل کی وجہ سے  بچا رہے گا -
یا سعودی خوامخواہ ڈر رہے ہیں کہ اُنہوں نے بیت اللہ کا طواف بند کروا دیا  ، اب قیامت آنے والی ہے ۔ کیوں کہ  یہ قیامت کی ایک نشانیوں میں سے ہے ۔
پڑھیں : قیامت کی  جھوٹی ملّائی نشانیاں

وٹس ایپ پر  25 کروڑ آیات کریمہ پھیلانے والے بھی میدان میں کود پڑے ۔
اللہ کے اسمائے مبار ک کو پھیلانے والے کیوں پیچھے رہتے ؟
کیوں کہ ملاؤں نے انہیں اِسی خطِ منحنی پر ڈالا ہے ، وہ اُنہیں یہ نہیں بتائے گا ، کہ   اللہ ،

ذُو انتِقَامٍ  ، الْجَبَّارُ، الْقَاهِرُ  اور وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ  بھی ہے   -

اِن کو یہ نہیں معلوم کہ سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق ، اس کائنات میں تقریباً تین لاکھ بیس ہزار وائرس ہر وقت موجود رہتے ہیں -اور یہ خود نہیں پیدا ہوئے ، اِنہیں احسن الخالقین نے اپنے کلمہ کُن سے تخلیق کر کے کتاب اللہ میں اپنی آیات بنا کر بکھیر دیا ہے ۔ کیوں ؟ یہ وہی جانے وائرسوں کی اِس کرہ الارض کے لئے افادیت ۔ جو اُس کے آفاقی نظام کا حصہ ہیں ۔ شیطان کے پیروکاروں نے اللہ کی اِن تخالیق میں تبدیلی کر کے انسانوں کے لئے مہلک بنا دیا ۔تاکہ ایک دوسرے کو اِن اثرات سے نقصان پہنچایا جائے ۔ ڈینگی ، برڈ فلو، ایبولا، ایڈز ، کانگو وائرس اور نجانے کس کس معصوم وائرسوں کو مہلک بنا کر اپنی لیبارٹری میں محفوظ کر رکھا ہے ، جِس کے اثرات سے اُن کی اقوام بھی محفوظ نہیں ۔ خیر 
24 جنوری،( 25 دن بعد) ،  چین میں  اموات  کی تعداد     26 اور  متاثرین   830 ہو گئے ۔ شنگھائی کا ڈزنی  لینڈ بند کر دیا گیا ۔دیوارِ چین پر جانا بند کردیا گیا ۔  ہوبے شہر میں یہ تعداد 13 ہو گئی یوں وہاں 41 ملیئن لوگ خطرے نے نزدیک آ پہنچے ۔ 

25 جنوری،( 26 دن بعد) ، چین کے اپنے دوسرے صوبوں میں بندش لگا کر 56 ملیئن لوگوں کو محفوظ بنانے کا فیصلہ کیا کیوں کہ   56 افراد کی موت ہوگئی اور 2،000 مزید لوگ کرونا وباء کا شکار ہوگئے ۔

27 جنوری،( 28 دن بعد) ، تک 206 افراد موت کا شکار ہو چکے تھے اور 4515  افراد مرض میں مبتلا ہو گئے صرف ہوبے  صوبے میں 2،714 افراد    بیمار ہوئے ، جبکہ  ایک دن پہلے 1،423 افراد بیمار تھے-

30جنوری،( 31 دن بعد)   فوت ہونے والوں کی تعداد  170 تک بڑھ چکی تھی اور   7،711 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوچکے تھے -انڈیا اور فلپائن کا ایک ایک فرد بیمار ہوا۔

31 جنوری،( 32 دن بعد)چین کے 9،809 افراد بیمار ہو چکے تھے ، نیز روس اورسپین ، میں پہلے وائرس کیس ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن  (WHO) کو بتائے گئے -
نوٹ: کرونا سے متعلق  تمام معلومات   گوگل کی مدد سے اکٹھی کی گئیں ہیں ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلا مضمون :
٭-کرونا وائرس ، چین  اور گلوبل گاؤں ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔