میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 17 مارچ، 2020

قیامت کی جھوٹی نشانیاں پھیلانے والے اسلامو فاشسٹس


یہ روایت اس وقت گھڑی گئی تھی،  جب حجاج بن یوسف نے ،692 عیسوی  (73 ھجری) میں -
عبداللہ بن زبیر بن عوام کو قتل کرکے لاش باب کعبہ کی دیوار کے ساتھ لٹکا دی تھی ۔  حجاج نے تین دن تک ان کی لاش کو سولی  پر لٹکائے رکھا . طواف بند کر دیا تھا ۔
جس پر
عبداللہ بن زبیر کی والدہ اسماء بنت ابوبکر نے ایک تاریخی جملہ بولا تھا، ۔
"باقی گھڑ سوار   اپنے گھوڑوں سے اتر گئے ،   یوسف کے  بد بخت بیٹے  کیا ،شہسوار کے گھوڑے سے اترنے کا، وقت ابھی نہیں آیا کہ وہ لحد میں آرام کرے۔ تونے اِسکی دنیا خراب کی ، اِس نے تیری آخرت خراب کر دی "
 682 عیسوی(63  ھجری )   کے  بعد ، بنو امیہ کے خلاف کھڑے ہونے والے صحابہ نے کعبہ میں پناہ لی تھی ۔
عبداللہ بن زیبر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ، اس وقت مکہ میں پناہ گزین تھے اور عبد الملک کو ان کی حکومت ختم کرنے کے لیے کسی ایسے شخص کی تلاش تھی جوعبداللہ بن زبیر کا خاتمہ کر سکے۔ چنانچہ حجاج کو اس مہم کا انچارج بنایا گیا۔ اس نے مکہ کی ناکہ بنی کرکے غذائی بحران پیدا کر دیا اور سنگباری کی۔ جب شامی خانہ کعبہ کی حرمت یا عبد اللہ بن زبیر کی اخلاقی اپیلوں کی وجہ سے ہچکچاتے تو حجاج خود سنگباری کرتا تھا۔ اس مہم میں اس نے انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرکے عبد اللہ بن زبیر کو شہید کر ڈالا۔ اور ان کی لاش کو کئی روز تک پھانسی پر لٹکائے رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسے حجاز کا گورنر کر دیا گیا۔ اموی فوجوں نے،  انہیں وہاں بھی نہیں بخشا تھا۔طواف کعبہ لڑائی کے دوران بند رہا ۔ کوئی قیامت نہیں آئی ۔

10 جون 1916 (9 شعبان 1334ھجری)میں   مکہ میں بنو ھاشم اور عثمانی خلافت کے درمیان جنگ ہوئی ، بنو ھاشم نے انگریزجنرل فرنسس رینالڈ ونگیٹ  کی مدد  سے مکہ پر فتح حاصل کی ۔ طواف کعبہ جنگ کے دوران بند رہا ۔ کوئی قیامت نہیں آئی ۔
پھرستمبر  1924 (صفر 1343)میں انگریزوں نے    گائیڈز 10 کیولری ، 2FF  اور    1SP ( سیلف پروپیلڈ آرٹلری )کی مدد  سےعبدالعزیز   ابن سعود       کی خاطر  ، شریف مکہ کو گرفتار کرنے کے لئے   کعبہ کا محاصرہ کر لیا تھا ۔ طواف بند کردیا گیا،  ون ایس پی  کی توپوں نے،  مسجد الحرام پر گولہ باری کی شریف مکہ نے ہتھیار ڈال دیئے ۔ اور پورے حجاز  پر ابن سعود کا قبضہ ہوگیا ۔

طواف کعبہ جنگ کے دوران بند رہا ۔ کوئی قیامت نہیں آئی ۔
 1979 میں،  شاہ کے بھتیجے نے مسجدالحرام پر قبضہ کیا طواف بند ہوچکا تھا،  ایک خونی مقابلے کے بعد باغیوں کو مسجد الحرام میں قتل کیا گیا ۔
2020 میں اگر جرونا پھیلنے کی احتیاط کی وجہ سے ، اب اگر حفاظت کے لئے طواف بند کیا گیا ہے تو قیامت نہیں آئے کیوں کہ ۔
کرونا وائرس اللہ کی تخلیق ہے. جسےشیطانی مقصد کے لئے،  انسانی جسم کو تباہ کرنے کے لئے لیبارٹری میں طاقتور بنایا گیا ہے ۔
 کرونا وائرس فلو کا وائرس ہے، جوایک انسان کے پھیھڑوں میں پہنچ کر 6 سے 12 گھنٹوں بیمار کر دیتا ہے ۔ لیکن موجودہ کرونا وائرس ناول- (2019-nCoV) کو لیبارٹری میں شیطانی مقاصد کے لئے اتنا طاقتور بنایا گیا ہے کہ اِس کا مریض کے پھیپھڑوں کو متاثر کرنے کا وقت 24 گھنٹے سے بڑھا کر 336 گھنٹوں، یعنی 14 دن تک بڑھا دیا گیا ہے۔ ایک مریض میں جاگنے کے بعد اُسے حتمی بیمارکرنے والا یہ وائرس جب سانس ، چھینک کے چھینٹوں کی وجہ سے دوسرے انسان کے جسم میں منتقل ہوتا رہتا ہے ۔ تو اُسے فوراً بیمار نہیں کرتا ، وہاں پھر یہ 14 دن انتظار کرتا ہے ۔
 
 5 روپے کا ماسک 50 روپے میں،سینیٹائزر غائب اور 40 ہزار کا ائیر ٹکٹ، ڈیڑھ لاکھ کا کر کے سورہ نوح اور قرانی آیات کی تلقین کرنے والی قوم!کے  اسلامو فاشسٹس ، کیا پوری مسلم امہ کو سسک سسک کر ختم کروانے کے درپے ہیں ؟؟ 


٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔