میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 24 مارچ، 2020

کرونا وائرس ، چین اور گلوبل گاؤں ۔

1 فروری،( 33 دن بعد) ، فوت ہونے والوں کی تعداد 259 تک بڑھ چکی تھی اور 11،791 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوچکے تھے - سویڈن ، آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی ، جاپان، سنگا پور ، یو ایس اے اور ویت نام نے بھی اپنے پہلے وائرس کیس ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کو بتائے ۔

 2فروری،( 34 دن بعد) ، چین سے باہر فلپائن میں کرونا وائرس سے پہلی موت ہوئی ۔ جبکہ چین میں فوت ہونے والوں کی تعداد 304 تک بڑھ چکی تھی اور 14،380 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوچکے تھے -
 3 فروری،( 35 دن بعد) ، کو چین میں 57 افراد کی وفات ہوئی اور 17،205 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوچکے تھے -چین کے وزیر اعظم   ژی جن پیانگ  نے کو معلوم ہوا کہ یہ وبائی وائرس شائد اپنے پھیلاؤ بڑھائے اگر اِسے کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ شائد چین کے پڑوسی ممالک   اپنا  دائرہ کار بڑھا لے ۔ چین نے فوراً  1000  بستروں کے ہسپتال کے لئے تیاری شروع کر دی  ہے جو 20 دن میں تیار ہوجائے گا ۔

 4فروری،( 36 دن بعد) ، چین میں 425 افراد فوت ہوئے اور 20،438 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔ ہانگ کانگ نے ایک وفات کی اطلاع دی ،اور اب کرونا وائرس سے موت کے منہ میں جانے والوں کا دائرہ گلوب پر پھیلنے لگا ۔ بلجیئم نےووہان سے واپس آنے والے ایک مریض کی اطلاع دی ۔
 5فروری،( 37 دن بعد) ، امریکہ نے ووھان سے اپنےبیماروں کو نکالنا شروع کردیا کیوں کہ چین نے کرونا کی ویکسین نہ ہونے کا اعتراف کر لیا - کیوں کہ اب تک ، چین میں 490 افراد فوت ہوئے اور 24،324 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔
 6فروری،( 37 دن بعد) ، تک ، چین میں 563 افراد فوت ہوئے اور 28،000 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔
 7فروری،( 38 دن بعد) ، کو چین کا پہلا ڈاکٹر لی وینلائنگ جس نے کرونا کے خطرے سے آگاہ کیا خود موت کے منہ میں چلا گیا ۔ ہانگ کانگ نے قرنطائن سے بھاگنے والوں کے لئے موت کی سزا کا اعلان کر دیا ۔چین میں 636 افراد فوت ہوئے اور 31،161 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔ 
8فروری،( 39 دن بعد) ، پہلا امریکی شہری اور ایک 60 سالہ جاپانی شہری ، ووھان میں فوت ہو گیا ۔ یوں چین میں 722 افراد فوت ہوئے اور 34،546 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔ وینس کارنیوال  (8 فروری سے   25 فروری)    اٹلی میں شروع ہوا - کیوں کہ کرونا ابھی تک اٹلی میں داخل نہیں ہوا ۔اور روم کے نیرو بانسری بجا رہے تھے -کہ ہم محفوظ ہیں ۔ مگر وہ اِس بات سے بے خبر نہیں تھے کہ  وینس کا میلا دیکھنے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں- تو چینی کیسے پیچھے رہیں گے ؟؟

 9فروری،( 40 دن بعد) ، کرونا وائرس نےSARS-2002  سے 2003-2002 مرنے والوں کی تعداد کو پیچھے چھوڑ دیا- ایک تفتیشی گروپ WHO نے چین کو روانہ کیا ۔ 
 10 فروری،( 42 دن بعد) ،چین میں فوت ہونے والوں کی تعداد 908 ہوگئی اور 40،171 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔ چین کے صدر ژی جن پنگ عوام میں نمودار ہوئے اور عوام کو ہمت سے کرونا جیسے وبائی مرض کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا -
 11 فروری،( 43 دن بعد) ،WHO نے اعلان کیا کہ وائرس کو "COVID-19"کہا جائے ۔ یو ں چین میں فوت ہونے والوں کی تعدا 1،016 ہوگئی اور 42،638 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔
 12 فروری،( 44 دن بعد) ،چین میں فوت ہونے والوں کی تعدا 1،113 ہوگئی اور 45،653 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔ ڈائمنڈ پرنس نامی امریکی بحری جہاز پر 117 عملے کے افراد کو کرونا نے بیمار کردیا ۔
 13 فروری،( 45 دن بعد) ،شمالی کوریا نے ایک مہینے کے لئے اپنے ملک کو غیر ممالک سے آنے والوں کے لئے بند کردیا ، چین میں فوت ہونے والوں کی تعداد 1،300 تک پہنچ گئی اور 60،000 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے 
۔ 14 فروری،( 46 دن بعد) ، مصر افریقہ کا پہلا کرونا کے مریض کا شہر بنا او ر فرانس میں کرونا مرض میں مبتلاء فرد کا انتقال ہوا ،چین میں فوت ہونے والوں کی تعداد 1،400 ہوگئی اور 52،338 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔

  15 فروری،( 47 دن بعد) ،چین میں فوت ہونے والوں کی تعداد 1،500 ہوگئی اور 66،492 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔ امریکہ نے اپنے بحری جہاز ڈائمنڈ پرنس سے بیماروں کو واپس امریکہ لانا شروع کیا ۔ 
16 فروری،( 48 دن بعد) ، چین میں فوت ہونے والوں کی تعداد 1،665 ہوگئی اور 68،500 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔تائیوان میں پہلی موت ایک 60 سالہ ٹیکسی ڈرائیور کی ہوئی جس ووھان سے آنے والے مسافر کو جنوری کے آخری ہفتے میں ائرپورٹ سے اُٹھایا تھا-
 17 فروری،( 49 دن بعد) ، چین میں فوت ہونے والوں کی تعداد 1،770 ہوگئی اور 70۔548افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔ جاپان نے امریکہ کے بحری جہاذ ڈائمنڈ پرنسس پر 99 نئے افراد کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی اطلاع دی ۔
18 فروری،( 50 دن بعد) ، چین میں کرونا  پھیلنے کا گراف 2000 سے کم ہوا ، نئے 1،888  افراد میں کرونا ٹیسٹ مثبت آئے ۔ فوت ہونے والوں کی تعداد 1،868 ہوگئی اور 72،436 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔ روس نے 20 جنوری سے چینی باشندوں کے روس میں داخلے پر پابندی لگا دی - ایتھوپیا  نے بھی اپنے ملک میں داخل ہونے  کے ٹیسٹ کی ابتداء کر دی ۔
19 فروری،( 51 دن بعد) ، ایران نے اپنے دو شہریوں کی کرونا وارس سے موت کی تصدق کی ۔گویا کرونا ایران میں فروری کے پہلے ہفتے میں پہنچ چکا تھا ۔ گویا ایران کےہمسایہ ملک ، پاکستا ن میں بھی خطرے کی گھنٹی بج جانا چاھئیے تھی ، کیوں کہ لگ بھگ 6000 سے اوپر  شیعاً زائرین  زیارات کے لئے ایران گئے ہوئے تھے ۔لیکن ابھی تک پاکستان میں کرونا نے اپنے پیر نہیں پھیلائے تھے ۔ چین میں کرونا پھیلنے کا گراف دوسرے دن بھی 2000 سے کم رہا ، فوت ہونے والوں کی تعداد 2،004 ہوگئی اور 74،185 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔ 
 20 فروری،( 52 دن بعد) ، کوریا نے اپنے شہری کی کرونا وائرس سے موت کی اطلاع دی ، چین میں فوت ہونے والوں کی تعداد 2،118 ہوگئی اور 74،576 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔لیکن  آج کے دن چین میں صرف نئے 391 کے ٹیسٹ مثبت آئے ، جس کا مطلب یہ تھا کہ چین کی سختی سے  گھروں میں رہنے کی پابندی نے فائدہ پہنچانا شروع کردیا ہے ،

21 فروری،( 53 دن بعد) ، ساوتھ کوریا میں مزید 100 افراد بیمار ہوئے ،   یوں وہاں کا گراف  204 پر جا پہنچا ۔ چین میں فوت ہونے والوں کی تعداد 2،236 ہوگئی اور 75،400 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔
اسرائیل نے اپنی پہلے  شہری کے کرونا میں مبتلاء ہونے کی اطلاع دی - اٹلی میں کرونا سے متاثر افراد کی تعداد  6 ہو گئی ۔
22 فروری،( 54 دن بعد) ،  ساوتھ کوریا نے بھی چین کی طرح ایمرجنسی کا نفاد کر دیا ۔ 
ایران میں فوت ہونے والوں کی تعداد 6 ہوگئی -اور وہاں  جن مریضوں کے ٹیسٹ ہوئے اُن میں سے 28 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے  اور    آج کے دن چین میں صرف نئے 397  افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے۔اٹلی میں  78 سالہ شہری   فوت ہو گیا وہ 10 دن پہلے  بیماری سے ٹھیک  ہو چکا تھا ۔  گویا اٹلی میں  24 دن پہلے وائرس داخل ہوا تھا ،  یعنی  30   جنوری کو وہ متاثر ہوا تھا ۔ لمبارڈی میں  15 افراد کو کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ۔ جن میں سے 5 ڈاکٹر تھے ۔ 50،000 افراد کو گھر میں رہنے کا کہہ دیا ہے ۔
23 فروری،( 55 دن بعد) ،   ایران کے ہمسایہ ممالک میں بھی کرونا پھیلنے کی اطلاع  مل گئے ۔ اٹلی میں  حکام نے  3 افراد کے کرونا سے فوت ہونے کی اطلاع دی گویا ، کرونا 15 دن پہلے یعنی    8 فروری  کو پہنچ چکا تھا  اور جی بھر  کے   وینس کارنیوال  (8 فروری سے   25 فروری)   میں شامل افراد کےوسے لئے جس کی وجہ سے  اٹلی میں کرونا  ،اتنی شدت سے پھیلا کہ اٹلی چین کے بعد دوسرے نمبر پر آگیا ۔ یہی خدشہ پاکستان کو ایران جانے والے زائرین کے متعلق بھی تھا لیکن پاکستان حکومت نے  ،" سر سب اچھا ہے " کی رپورٹ ملنے پر ، کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رکھی تھیں ،اور اٹلی کے حکام نے    وینس کارنیوال   کو آج ہی ختم  کرنے کا  اعلان کردیا -

24 فروری،( 56 دن بعد) ،  کویت ، بحرین ، عراق ، افغانستان اور عمان  نے اپنے پہلے کرونا  کی آمد کی اطلاع دی ۔ساوتھ کوریا میں  کورونا کے مریض 833 ہو گئے ۔
 چین میں فوت ہونے والوں کی تعداد 2،595 ہوگئی اور 77،262 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔اور اٹلی کے حکام نے ساتویں موت کی اطلاع دی ۔
25 فروری،( 57 دن بعد) ، ایران نے  25 افراد کی کرونا سے موت اور  95 افراد کی کرونا کا شکار ہونے  کی اطلاع دی ۔   چین نے  71 افراد کی کرونا سے موت اور  518 افراد کی کرونا کا شکار ہونے  کی اطلاع دی ۔   ساوتھ کوریا  نے   977 افراد  اور اٹلی نے 229 افرادکی کرونا کا شکار ہونے  کی اطلاع دی ۔ 
 26 فروری،( 58 دن بعد) ،گلوبلی  2800 افراد کی موت ہوئی  اور 80،000 افرادکی کرونا کا شکار ہوئے  ۔  ناروے ، یونان، جارجیا ، پاکستان، شمالی مقدونیہ  اور برازیل سے  پہلے  کرونا کیس رپورٹ ہوئے ۔
 27 فروری،( 59 دن بعد) ،  ایسٹونیا،  ڈنمارک ،شمالی آئرلینڈ اور نیدر لینڈ  سے  پہلے  کرونا کیس رپورٹ ہوئے ۔ گلوبلی  2930 افراد کی موت ہوئی  اور 82،000 افرادکی کرونا کا شکار ہوئے  ۔  اٹلی نے 229 افرادکی کرونا کا شکار ہونے اور  3 مزید افراد کے فوت ہونے   کی اطلاع دی ۔ 
  28 فروری،( 60دن بعد) ،لیتھونیا اور ویلز  سے  پہلے  کرونا کیس رپورٹ ہوئے ۔نیدر لینڈ اور جارجیا نے  اپنے  دوسرے    کرونا کیس رپورٹ ہوئے ۔
  29 فروری،( 61دن بعد) ،ساوتھ کوریا  نے 3،150 افرادکی کرونا کا شکار ہونے اور  17 مزید افراد کے فوت ہونے   کی اطلاع دی ۔  ایران نے24  گھنٹوں کے اندر ،   مزید 388 افرادکی کرونا کا شکار ہونے اور  34   افراد کے فوت ہونے   کی اطلاع دی ۔   قطر نے اپنے پہلے کرونا کیس کی اطلاع دی -

فلم Contagion 2011 جس کا مرکزی خیالSARS-2002 سے لیا گیا تھا ، جس نے پوری دنیا کو وبائی مرض میں مبتلا کردیا - بالکل وہی صورتِ حال پیدا ہو رہی تھی-


11 جنوری کو ووھان کی سمندری غذا کی مارکیٹ سے شروع ہونے والی ، اِس وبا ء نے ایک بوڑھے آدمی کی جان لی ، چین سے ایک خاتون کے ہمراہ تھائی لینڈ کا رُخ کیا ۔17 جنوری،کو ووھان میں ایک اور چینی شہری کی موت کے بعد دنیا میں امریکہ نے ہڑبونگ پھیلا دی ، امریکہ کے سارے نشریاتی اداروں ، اخباروں نے چین میں چمگادڑوں سے ، زمینی وہاں سے سمندری مخلوق جو عموماً چینیوں کی غذا ہے اور وہاں سے انسانوں میں پھیلنے والے نامعلوم وائرس کے متعلق خبریں ، اور بریکنگ نیوز ساری دنیا میں پھیلائی اور ساتھ ہی چین سے آنے والے ہر مسافر کو مسافر کو سکریننگ سے گذرنے کا حکم دے دیا ۔لیکن جو 17 جنوری سے پہلے آئے وہ کافی تھے اِس وباء کو پھیلانے کے لئے ، چنانچہ جہاں جہاں یہ وائرس جسے ، ناول کرونا-19 کا نام دیا گیا ، پہنچا تو لوگ بیمار ہونا شروع ہوگئے اور بریکنگ نیوز کے ٹکر، امریکہ ، نیپال، فرانس، آسٹریلیا ، ملائشیاء ، سنگا پور ، جنوبی کوریا ، ویت نام، تائیوان،انڈیا ، فلپائن ، روس، سپین ، سویڈن ، آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی ، جاپان، سنگا پور ، ہانگ کانگ ، بیلجیئم ،ویت نام اور مصر ، کویت ، بحرین ، عراق ، افغانستان،  عمان ،   ناروے ، یونان، جارجیا ، پاکستان، شمالی مقدونیہ  ، برازیل ،   ایسٹونیا،  ڈنمارک ،شمالی آئرلینڈ ، نیدر لینڈ، قطر  کے کرونا کے مریضوں کے متعلق چلنا شروع ہوگئے ۔ 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
اگلا مضمون:  
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پچھلا مضمون:   کرونا وائس ، گلوبل ورلڈ کو خطرہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔